قراقرم ہائی وے کا بیس کلو میٹر حصہ متاثر

Image caption دریائے ہنزہ میں بنننے والی جھیل سے بہت سے دیہات متاثر ہوئے ہیں

پاکستان کے شمالی علاقے ہنزہ میں چار ماہ پہلے مٹی کا تودہ گرنے سے ہنزہ دریا میں بننے والی جھیل کی وجہ سے چین اور پاکستان کے ساتھ زمینی راستہ گزشتہ چار ماہ سے منقطع ہے اور اب اس راستے کو بحال کرنے کے لیے قراقرم ہائی وے کے لیے کوئی دوسرا روٹ تلاش کرنا ہوگا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر مواصلات ارباب عالمگیر خان نے بتایا کہ قراقرم ہائی وے کا کم از کم بیس کلو میٹر حصہ اس جھیل سے متاثر ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہنزہ جھیل کی وجہ سے قراقرم ہائی وے کا رخ موڑنا پڑے گا اوراس سڑک کے ذریعے پاکستان سے چین کا زمینی راستہ بحال کرنے کے لیے کوئی دوسرا راستہ تلاش کرنا پڑے گا۔

انھوں نے کہا کہ متاثرہ قراہ قرم ہائی وے کا راستہ قابلِ استعمال نہیں رہا اس لیے یہاں ہائی وے دوبارہ تعمیر نہیں کی جاسکتی۔

اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ چین، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے اہلکاروں کے ساتھ ایک اجلاس میں اس صورتحال پر غور ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایک نئی جگہ کے لیے سروے کیا جائے گا۔

دریں اثناء ہنزہ تحصیل کی انتظامیہ نے عطاء آباد جھیل سے ایک کلو میڑ کے فاصلے پر دو گاؤں سلمان آباد اور سلمان آباد سرت کے رہائشیوں کو محفوظ جگہ ہر منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ سلمان آباد میں پینتیس گھرانے جبکہ سلمان آباد سرت میں اکیس گھرانے ہیں۔ان گھرانوں کو ایک ہفتہ پہلے گھر خالی کرنے کا نوٹس دیا گیا تھا۔

ان رہائشیوں کو ہنزہ کے علاقے کریم آبادگرلز کالج میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

سلمان آباد سرت کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سیلاب کے ممکنہ خطرے میں سرت کے رہائشیوں کو خطرہ ہے اس لیے انہیں منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ سلمان آباد کے رہائشیوں کو اس لیے منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ رابطہ پل کو گرایا جا سکے۔ اس پل کو گرانے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ سیلاب کے ممکنہ خطرے سے اس پل کے گرنے کا خطرہ ہے۔

فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے انچارج میجر ارشدنے بتایا کہ پانی کی نکاسی کا کام جاری ہے اور اس سلسلے میں پچانوے فی صد کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ باقی کا کام ایک دو روز میں مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ کریم آباد میں واقعہ گنیش پل کو ممکنہ سیلاب سے خطرہ ہے اور اس سلسلے میں پاک فوج نے گنیش پل سے کچھ فاصلے پر رسی کا پل بنانے کا کام شروع کر دیا ہے۔

اسی بارے میں