کورٹ مارشل: ندیم احمد شاہ بری

پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے راولپنڈی کے وکیل ندیم احمد شاہ کو فوج کی خفیہ معلومات تک رسائی کی کوشش، بعض فوجی تنصیبات پر حملے اور کالعدم تنظیم کے ساتھ روابط کے الزامات سے بری کر دیا ہے۔

فائل فوٹو، ندیم شاہ
Image caption ندیم احمد شاہ فضائیہ کے سابق پائلیٹ ہیں اور گزشتہ کئی برس سے وہ وکالت کے پیشے سے وابستہ تھے

ندیم احمد شاہ ایڈووکیٹ کے ساتھ اسی نوعیت کے الزامات کا سامنا کرنے والے دیگر تین ملزمان، جن میں سے دو بری فوج کے اعلیٰ افسر ہیں کے بارے میں ابھی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

ندیم ایڈووکیٹ کے بھائی رضا شاہ نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ کوٹلی کی فوجی عدالت سے رہائی پانے کے بعد ان کے بھائی گھر پہنچ چکے ہیں۔

رضا شاہ نے کہا کہ ان کے بھائی میڈیا سے بات نہیں کرنا چاہتے۔

رضا شاہ نے کہا ’میرے بھائی کا بری ہونا ثابت کرتا ہے کہ ندیم شاہ نے ان میں سے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا تھا۔‘

جاسوسی: تین افراد کا کورٹ مارشل

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار آصف فاروقی کا کہنا ہے کہ ندیم احمد ایڈووکیٹ، انجینیئر اویس علی خان، کرنل شاہد بشیر اور ان کے ایک اور ساتھی کرنل پر کالعدم تنظیم حزب التحریر کا رکن ہونے، پاکستانی فضائیہ کے امریکہ کے زیراستعمال فوجی ہوائی اڈے شمشی ائر بیس پر حملے اور اس کے لیے خفیہ فوجی معلومات تک رسائی کی کوشش کے الزامات ہیں۔

ان چاروں افراد کو گزشتہ برس مئی کے مہینے میں راولپنڈی سے حراست میں لیا گیا تھا لیکن فوجی عدالت میں مقدمہ اس سال جنوری میں عمل میں لائی گئی تھی۔

الزامات ثابت ہونے کی صورت میں ملزمان کو فوجی قوانین کے تحت سزائے موت دی جا سکتی ہے۔

ندیم احمد شاہ راولپنڈی بار کے سرگرم کارکن ہیں۔ وہ فضائیہ کے سابق پائلیٹ ہیں اور گزشتہ کئی برس سے وہ وکالت کے پیشے سے وابستہ تھے۔ ان کے بھائی جماعت اسلامی کے رکن ہیں۔ ندیم احمد شاہ خود حافظ قرآن اور فقہ کے علم پر خاصا عبور رکھتے ہیں۔

فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے لیفٹینٹ کرنل شاہد بشیر فوج کی انجینئرنگ کور کے باریش افسر ہیں۔ ان سے کالعدم تنظیم حزب التحریر سے ان کے روابط کے بارے میں بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔

اویس علی خان امریکہ سے میکنیکل انجینیئرنگ کی ڈگری لے کر چند برس قبل پاکستان لوٹے تھے۔ امریکہ سے گرین کارڈ ہولڈر اور امریکی شہری کے شوہر اویس علی خان نے سنہ دو ہزار دو میں پاکستان لوٹنے کے بعد پاکستانی فوج کے زیرانتظام اسلحہ اور گولہ بارود بنانے والے ادارے ائر ویپن کمپلیکس میں ملازمت اختیار کی تھی لیکن دو سال سے وہ ملازمت سے استعفیٰ دے کر اپنی فیکٹری چلا رہے تھے۔

اویس علی خان کی والدہ بیگم ثریا مسعود نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کے بیٹے کے کسی مذہبی یا سیاسی گروہ سے تعلق نہیں ہے اور نہ ہی وہ کبھی کسی قسم کی تخریبی یا سیاسی کارروائی میں شریک رہا ہے۔

اسی بارے میں