ہنزہ: کریم آباد عطا آباد پُل بند

ہنزہ کی انتظامیہ پہاڑی تودہ گرنے کے بعد بننے والی جھیل سے خطرے کے پیش نظٌر کریم آباد سے قراقرم ہائی وے پر پل گنیش کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے۔ یہ راستہ کریم آباد سے عطا آباد جاتا ہے جہاں مصنوعی جھیل بنی ہے۔

ہنزہ نقلِ مکانی
Image caption ہنزہ جھیل کا سپل وے بننے کے بعد گیارہ دیہات کی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے

ڈپٹی کمشنر ہنزہ نگر نے بی بی سی کو بتایا کہ گنش پل سے نگر کی جانب جانے والی گاڑیوں کو نہیں روکا جا رہا بلکہ صرف ان گاڑیوں کو روکا جا رہا ہے جو عطا آباد کی جانب جا رہی ہیں۔ ’یہ احتیاطی اقدامات کا حصہ ہیں۔‘

اس کے علاوہ عطا آباد کے مقام پر بڑی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے۔ یہ لینڈ سلائیڈنگ عطا آباد میں قراقرم ہائی وے کے دونوں جانب ہوئی ہے۔

تاہم ڈپٹی کمشنر ہنزہ نگر ظفر وقار تاج کا کہنا ہے کہ مٹی کے تودے سے بند کو نقصان نہیں پہنچا۔ ان کا کہنا تھا ’ابھی تک سپل ویز پر لینڈ سلائیڈنگ نہیں ہوئی ہے۔ اگر سپل ویز پر ہوتی ہے تو سپل ویز بند ہونے کا خدشہ ہے اور ایسی صورت میں جھیل سے نیچے زیادہ نقصان پہنچے گا۔‘

یاد رہے کہ پیر کی شام کو انتظامیہ نے احکامات جاری کیے تھے کہ جھیل میں کشتی رانی پر منگل کی صبح سے مکمل پابندی ہے۔

چند ماہ پہلے مٹی کا تودہ گرنے سے بننے والی جھیل کے بعد وہاں ایک بوٹ سروس شروع کی گئی جہاں سے ضروریات زندگی کی اشیاء ششکٹ ، گلمت اور حسینی تک پہنچائی جاتی تھیں۔

ہنزہ جھیل پانی میں اضافہ، تصاویر

ڈپٹی کمشنر نے کشتی رانی پر پابندی کا فیصلہ پھسو گاؤں میں ایک گلیشیئر کے گرنے کے بعد کیا گیا ہے جس کے بعد جھیل میں پانی کی سطح میں یکدم اضافہ ہو گیا ہے۔

ادھر ہنزہ نگر کے اٹھارہ گاؤں کے لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا ہے۔ وہاں فوج اور پولیس کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

دریں اثناء دریائے ہنزہ میں بننے والی جھیل سے پانی کے اخراج کے لیے بنائے جانے والے سپل وے کی تعمیر کا کام مکمل ہوگیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سپل وے سے پانی کے اخراج کے بعد ممکنہ سیلاب سے راستے بند ہونے کے خدشے کے پیش نظر گلگت اور ہنزہ کے باسیوں کے لیے خوراک ذخیرہ کی جا رہی ہے۔

ہنزہ کے ڈپٹی کمشنر نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ اتوار کو بننے والی سپل وے کو مزید گہرا نہیں کیا جائے گا۔ انھوں نے بتایا کہ اس سپل وے کی لمبائی پچاس میٹر ہے جبکہ گہرائی چوبیس میٹر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر سپل وے کو مزید گہرا کرنے کی کوشش کی گی تو اس سے اردگرد موجود ملبہ سپل وے میں گرنے کا اندیشہ ہے۔

ظفر وقار نے کہا کہ جھیل کی سطح بلند ہونے کی صورت میں سپل وے میں پانی کی آمد شروع ہو جائے گی اور ایک اندازے کے مطابق یہ عمل چند دنوں میں شروع ہو سکتا ہے۔

Image caption اٹھارہ دیہات کے تین سو خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا کام شروع ہو گیا ہے

انھوں نے بتایا کہ علاقے میں دریائے ہنزہ اور گلگت پر سترہ پختہ اور عارضی پل ہیں جنھیں ممکنہ سیلاب سے نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

ظفر وقار کے مطابق پختہ پلوں کی حفاظت کے لیے کوئی خاص اقدامات نہیں کیے جا سکتے ہیں البتہ عارضی پلوں کو محفوظ بنانے کے لیے ہٹانے کا کام شروع ہو گیا ہے۔

ہنزہ کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق عارضی پلوں کو اس لیے ہٹایا جا رہا ہے کہ اگر ممکنہ سیلاب سے پختہ پلوں کو نقصان پہنچتا ہے اور علاقے کا زمینی رابط منقطع ہو جاتا ہے تو اس صورت میں متاثرہ لوگوں کو خوراک پہنچانے کے لیے دوبارہ عارضی پل جوڑ کر راستہ بنایا جائے تاکہ انھیں خوراک کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

انھوں نے بتایا کہ ممکنہ سیلاب کی صورت میں جھیل سے پانی کا اخراج ساٹھ میٹر یا دو سو فٹ بلند لہر کی صورت میں ہو گا۔

سپل وے کی تعمیر کرنے والی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے انچارج میجر ارشد بیگ کے مطابق جھیل کی سطح میں مزید تیس فٹ کے اضافے کی صورت میں ہی پانی سپل وے میں آئے گا۔

عطاء آباد جھیل کے بند کی نگرانی کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم فوکس پاکستان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دریا کے بہاؤ کی سمت میں بارہ مقامات پر الارم اور سائرن نصب کر دیے گئے ہیں اور جونہی پانی بند کے اوپر سے نکلنا شروع ہو گا تو ایک ایس ایم ایس کے ذریعے ان تمام الارمز اور سائرن کو بجا کر آبادی کو مطلع کیا جائے گا۔

ہلالِ احمر پاکستان کے پروگرام مینیجر احمد دین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بند ٹوٹنے کی صورت میں دریا کے بہاؤ کی سمت واقع ہنزہ نگر ضلع کے چودہ دیہات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان دیہات میں تین سو ساٹھ گھرانے آباد ہیں اور آبادی کی کل تعداد تین ہزار دس ہے۔

ان کے مطابق یہ تمام دیہات سلمان آباد نامی گاؤں سے اوپر کی جانب واقع ہیں۔

خیال رہے کہ عطاء آباد جھیل سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر دو دیہات سلمان آباد اور سلمان آباد سرت کے رہائشیوں کو سنیچر کو ہنزہ کے صدر مقام کریم آباد منتقل کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں