آخری وقت اشاعت:  منگل 18 مئ 2010 ,‭ 17:03 GMT 22:03 PST

’عطاآباد جھیل بائیس مئی تک بھر جائےگی‘

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

(این ڈی ایم اے کی پریس کانفرنس)

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے وفاقی ادارے نیشنل ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ وادی ہنزہ میں پہاڑی تودہ گرنے سے بننے والی مصنوعی جھیل آئندہ پانچ سے چھ دن میں لبریز ہو جائے گی اور اس کا پانی سپل وے سے بہنا شروع ہو جائےگا۔

این ڈی ایم اے کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ندیم احمد نے منگل کو اسلام آباد میں ایک نیوز بریفنگ میں بتایا کہ اس وقت جھیل میں پانی کی گہرائی تین سو بتیس فٹ ہے اور جھیل کی لمبائی سولہ کلومیٹر سے زیادہ ہو چکی ہے جبکہ اس میں اوسطاً ایک میٹر یومیہ پانی بڑھ رہا ہے۔

کلِک ہنزہ: گنیش پل کی بندش

کلِک سلمان آباد یا برباد؟

اسلام آباد میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار احمد رضا کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’پانی اور سپل وے کے کناروں کی سطح میں چھ میٹر سے بھی کم فاصلہ رہ گیا ہے اور اس حساب سے بائیس مئی کے بعد کسی بھی وقت یہ پانی اسپل وے سے بہنا شروع ہوجائے گا‘۔

انہوں نے بتایا کہ جھیل لبریز ہونے کے بعد ایک یا ایک سے زیادہ جگہوں سے اس کے بند ٹوٹنے کا بھی خطرہ موجود رہے گا۔

این ڈی ایم اے کے سربراہ کے مطابق صورتحال کے پیش نظر فوج کی انفنٹری اور انجینئرنگ کے چار یونٹ بھی علاقے میں تعینات کر دیے گئے ہیں جو کسی بھی حادثے کی صورت میں سول انتظامیہ کی مدد میں کام کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہماری تیاری یہ ہے کہ اگر جھیل کا بند ایک گھنٹے میں بھی ٹوٹے تو پھر بھی کوئی جانی نقصان نہ ہو‘۔

ہماری تیاری یہ ہے کہ اگر جھیل کا بند ایک گھنٹے میں بھی ٹوٹے تو پھر بھی کوئی جانی نقصان نہ ہو

ندیم احمد

انہوں نے کہا کہ مصنوعی جھیل کے موجودہ اور ممکنہ متاثرین کی تعداد چالیس ہزار ہے۔ ایک وہ آبادی ہے جو جھیل سے اوپر رہتی ہے جو پچیس ہزار نفوس پر مشتمل ہے اور ان کا کھانا پینا گلگت کی طرف سے جاتا ہے تو وہ آبادی کٹی ہوئی ہے۔

ان کے مطابق اس آبادی کے لیے پہلے کشتی سروس چلائی جارہی تھی جو خطرے کے پیش نظر بند کردی گئی ہے اور اس کی جگہ دو ہیلی کاپٹرز فراہم کر دیے گئے ہیں جبکہ پانچ مزید ہیلی کاپٹرز موسم بہتر ہوتے ہی روانہ کر دیے جائیں گے۔

دوسری وہ آبادی ہے جن کے مکانات یا تو جزوی یا مکمل طور پر جھیل کے پانی میں ڈوب گئے ہیں یا جو لینڈ سلائڈز سے متاثر ہوئی تھی۔ اس آبادی کی تعداد چار ہزار ہے۔ ان کے بقول خطرے سے دوچار تیسری آبادی ان لوگوں کی ہے جو جھیل سے نیچے آباد ہے جن کی تعداد تیرہ ہزار کے قریب ہے۔

لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ ندیم احمد نے کہا کہ امدادی کاموں کے لیے ہنزہ، گلگت اور این ڈی ایم اے میں کمانڈ اور کنٹرول مراکز بنا دیے گیے ہیں اور امدادی تنظیمیں، سرکاری اور سماجی ادارے بھی ان مراکز کا حصہ ہیں۔

پانی اب سپل وے کے کناروں سے چھ میٹر سے بھی کم فاصلے پر ہے

انہوں نے کہا کہ بند ٹوٹنے کی صورت میں لوگوں کو پیشگی خبردار کرنے کے لیے ’نگرانی اور پیشگی آگاہی کا ایک بڑا واضح نظام‘ قائم کردیا گیا ہے جبکہ ایک موبائل فون کمپنی کے ذریعے مسیجنگ سروس کا بھی انتظام کرلیا گیا ہے اور خدانخواستہ ڈیم ٹوٹتا ہے تو لوگوں کو پیشگی پیغام بھیج دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ گلگت تک جتنے بھی ڈاؤن سٹریم دیہات تھے انہیں خالی کرالیا گیا ہے اور ان کے لیے اٹھارہ کیمپ بنائے گئے ہیں۔ جنرل (ر) ندیم کے مطابق ’زیادہ تر لوگوں اپنے گھروں سے نقل مکانی کر کے خیمہ بستیوں کی بجائے تعلیمی اداروں کی عمارتوں یا اپنے عزیز و اقارب کے گھروں میں منتقل ہوئے ہیں‘۔ ان کے بقول جو لوگ اپنے رشتے داروں کے گھروں پر منتقل ہوئے ہیں انہیں ایک ایک مہینے کا راشن دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے رشتے داروں پر بوجھ نہ بنیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وفاقی حکومت نے امدادی کاموں کے لیے اسّی کروڑ روپے جاری کر دیے ہیں۔

زیادہ تر لوگوں اپنے گھروں سے نقل مکانی کر کے خیمہ بستیوں کی بجائے تعلیمی اداروں کی عمارتوں یا اپنے عزیز و اقارب کے گھروں میں منتقل ہوئے ہیں۔جو لوگ اپنے رشتے داروں کے گھروں پر منتقل ہوئے ہیں انہیں ایک ایک مہینے کا راشن دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے رشتے داروں پر بوجھ نہ بنیں۔

لیفٹیننٹ جنرل(ر) ندیم احمد

لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ ندیم احمد کا کہنا تھا کہ ’شاہراہ قراقرم کا جو حصہ زیر آب آیا ہے اس کا مستقل حل ماہرین کے مطابق 2012 تک شاید مکمل ہو لیکن عارضی حل کے طور پر جھیل میں پانی کی سطح مستحکم ہونے کے بعد تین مہینوں کے اندر عارضی رستہ بنا دیا جائے گا تاکہ کم از کم علاقے کے لوگوں کی آمدورفت کی ضروریات پوری ہو سکیں‘۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔