صدر نے وزیرِ داخلہ کی سزا معاف کر دی

احتساب عدالت کی جانب سے تین، تین سال قید کی سزاؤں کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک کی اپیلیں خارج ہونے کے بعد صدر زرداری نے انکی سزائیں معاف کر دی ہیں۔

صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کو بتایا ہے کہ یہ سزائیں وزیراعظم کی سفارش پر آئین کے آرٹیکل پینتالیس کے تحت معاف کی گئی ہیں۔

آئین کے آرٹیکل پینتالیس کے تحت صدرِ پاکستان کو کسی بھی عدالت، ٹربیونل یا اتھارٹی کی جانب سے دی گئی سزا معطل کرنے، کم کرنے یا معاف کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

خیال رہے کہ پیر کو لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے احتساب عدالت کی جانب سے دی جانے والی سزاؤں کے خلاف وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک کی اپیلیں خارج کر دی تھیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے اپنی اپیلوں میں راولپنڈی کی احتساب عدالت کے دو الگ الگ ریفرنسوں میں دی گئی ان سزاؤں کو ختم کرنے کی اپیل کی تھی جو ان کی ملک میں عدم موجودگی کے دوران میں سنائی گئی تھیں۔

راولپنڈی احتساب عدالت نے انہیں دانستہ روپوشی کےالزام میں تین، تین برس قید کی سزا سنائی تھی۔

بائیس دسمبر سنہ دو ہزار نو کو لاہور ہائی کورٹ کے دورکنی بنچ نے اپنے عبوری حکم میں ان سزاؤں پر عملدرآمد روک دیا تھا اور ایک ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض وفاقی وزیر داخلہ کی ضمانت منظور کرلی تھی۔

لیکن پیر کو مختصر فیصلہ سناتے ہوئے دو رکنی بنچ نے وفاقی وزیرِ داخلہ کی ان دونوں اپیلیں خارج کر دیں۔

اسی بارے میں