نو ہزار تنخواہ میں کیا کیا کروں؟

آٹھ بچوں کی کفالت اور والدین کی ذمہ داریاں اور ان سب کے لیے ماہانہ تنخواہ صرف ساڑھے نو ہزار روپے، یہ کہانی سندھ کے محکمہ جیل خانہ جات کے سپاہی طالب حسین کی ہے۔ جو گزشتہ دس سال کی ملازمت کے بعد اس تنخواہ پر پہنچے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گذارے کےلیے وہ نوکری کے ساتھ ایک چھوٹی سے دکان بھی چلاتے ہیں، تب جاکر معمولات زندگی چلتے ہیں۔ سپاہی طالب حسین کے اس بیان سے ان کی معاشی اور معاشرتی صورتحال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

سندھ کی بیس جیلوں میں ساڑھ تینتیس سو ملازم ہیں، جبکہ گنجائش چار ہزار ملازمین کی ہے۔ پچھلے دنوں صوبائی حکومت نے محکمہ جیل خانہ جات کی پولیس کا بھی عام پولیس کے مساوی گریڈ اور تنخواہیں مقرر کی ہیں، مگر کئی اہلکاروں کو یہ شکایت ہے کہ اس سے بھی گذارہ ممکن نہیں۔

سندھ کی بیس جیلوں میں دس ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے مگر قیدی چودہ ہزار ہیں، جن میں پچہتر فیصد کے مقدمات زیر سماعت ہے۔ جیل میں قیدیوں سے رقم کی وصولی کے لیے پولیس کے تشدد اور عدالتوں میں حاضری پر لانے کے لیے رشوت کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں اور سندھ کی جیلوں میں اس پر قیدی جیلوں کی چھتوں پر چڑھ کر احتجاج بھی کرتے رہے ہیں۔

کراچی سٹی کورٹس میں لائے گئے کچھ قیدیوں نے بتایا کہ عدالت میں پیشی کے لیے جو قیدی رشوت دیتا ہے اسے صبح کو پہلی گاڑی میں سوار کیا جاتا ہے اگر کوئی پیسے دینے کے قابل نہیں ہو تو اسے بھیجا نہیں جاتا یا آخری گاڑی میں روانہ کیا جاتا ہے نتیجے میں وہ پیشی کے بعد عدالت میں پہنچتا ہے۔

کچھ قیدیوں کا کہنا تھا کہ جیل میں تشدد سے بچنے اور آرام دہ زندگی گزارنے کی بھی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے کسی سے بیس تو کسی سے چالیس ہزار رپے وصول کیے جاتے ہیں۔

صوبائی وزیر جیل خانہ جات مظفر شجراع اعتراف کرتے ہیں کہ جیل میں کرپشن موجود ہے۔ ان کے مطابق جب اس کی وجوہات معلوم کی گئیں تو پتہ چلا کہ ایک پولیس اہلکار کی تنخواہ چار ہزار آٹھ سو روپے ہے اگر اس کے چار بچے بھی ہوں تو اس مہنگائی کے دور میں کیسے گذارہ کرے گا ظاہر ہے کرپشن کرے گا، یہ حقیقت عیاں ہونے کے بعد انہوں نے حکومت کو گذارش کی جس کے بعد جیل پولیس کے سپاھی کی تنخواہ دس ہزار رپے تک لائی گئی ہے ۔

ایک ملک میں ایک جیسے ہی فرائض سرانجام دینے والے پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں میں فرق ہے، پنجاب پولیس کی بنیادی تنخواہ سندھ پولیس سے دوگنی ہے جس پر جیل پولیس کے اہلکار شکوہ کرتے ہیں۔

شبیر نامی ایک سپاھی نے بتایا کہ پنجاب پولیس کی تنخواہیں تین سال قبل ان سے دوگنی کردی گئیں تھیں سندھ میں بھی اعلان کیئے گئے ہیں مگر عمل نہیں ہوا ۔

صدر آصف علی زرداری بھی جیلوں میں اصلاحات میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں اور انہوں نے سندھ حکومت کو ایک جامع منصوبہ بنانے کی ہدایت کی ہے۔

صوبائی وزیر جیل خانہ جات مظفر شجراع کا کہنا ہے کہ وہ جیل پولیس کے اہلکاروں کی تنخواہیں بھی موٹر وے پولیس کے مساوی کرنے کی تجویز تیار کر رہے ہیں اگر اس پر عمل ہوگیا تو ایک سپاھی کی تنخواہ پچیس ہزار رپے تک پہنچ جائیگی۔ اس کے علاوہ رہائش، میڈیکل کی سہولت، بچوں کے لیے مفت تعلیم ، اور لائف انشورنس کی سفارش بھی کی گئی ہے جن کے لیے پانچ ارب رپوں کی ضرورت ہے۔

صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے لیے جیلوں کے لیے تینتیس کروڑ اضافی مختص کیئے گئے ہیں اصلاحات کے منصوبے پر اگلے مالی سال پر عمل ممکن ہوسکے گا۔