ٹانک: سابق رکن اسمبلی کا قتل

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سابق ممبر قومی اسمبلی اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے قبائلی علاقوں کے امیر مولانا معراج الدین محسود کو ضلع ٹانک میں نامعلوم موٹر سائکل سواروں نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ہے۔

فائل فوٹو
Image caption مولانا معراج الدین کا قصور یہ تھا کہ وہ طالبان کے خلاف لشکر بنانے کے لیے تیار نہیں تھے: مولانا نیاز علی شاہ

جنوبی وزیرستان کے پولیٹکل ایجنٹ شہاب علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کی صُبح چھ بجے کے قریب ٹانک شہر سے تقریباً پندرہ کلومیٹر دور جنوب کی جانب گومل کے علاقے مُرتضی میں دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے اس وقت مولانا معراج الدین پر فائرنگ کر کے ہلاک کردیا جب وہ مسجد سے گھر کی طرف جا رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ واقعہ کے بعد نامعلوم افراد فرار ہوگئے ۔ ان کا کہنا تھا پولیس اور پولیٹکل انتظامیہ نے مُلزمان کی تلاش شروع کی ہے لیکن ابھی تک کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

پشاور سے ہمارے نامہ نگار دلاور خان وزیر کا کہنا ہے کہ جمعیت علماء اسلام (ف) گروپ حلقہ محسود کے سیکریٹری اطلاعات و نشریات مولانا نیاز علی شاہ نےالزام لگایا ہے کہ مولانا معراج الدین کے قتل میں طالبان نہیں بلکہ حکومت کے اہلکار ملوث ہوسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جائے وقوعہ سے پولیس تھانہ اور سکیورٹی فورسز کی چوکی چند گز کے فاصلے پر واقع ہے اور گزشتہ تین دنوں سے ٹانک اور گومل کے علاقے میں کرفیو ہے اور موٹر سائیکل چلانے پر بھی پابندی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا معراج الدین کا قصور یہ تھا کہ وہ طالبان کے خلاف لشکر بنانے کے لیے تیار نہیں تھے۔

یادرہے کہ جنوبی وزیرستان کے علاقہ محسود میں سکیورٹی فورسز کی بیت اللہ گروپ کے خلاف کارروائی کے بعد تقریباً اسی فیصد لوگ نقل مکانی کرکے ٹانک، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان منتقل ہوگئے ہیں۔ اب حکومت نے گزشتہ چند ہفتوں سے محسود قبائل کے ایک جرگے کے ذریعے یہ کوششیں شروع کی ہیں کہ محسود قبائل کے متاثرین واپس اپنے گھروں میں چلے جائیں اور طالبان کے خلاف ایک لشکر بنانے کا اعلان بھی کریں لیکن مولانا معراج الدین سمیت جرگے کے کچھ دوسرے لوگ لشکر بنانے کے لیے تیار نہیں تھے۔