کراچی فائرنگ میں سترہ افراہ ہلاک

کراچی میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں نامعلوم افراد کی فائرنگ میں سترہ افراد کی ہلاکت کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ ہوئی اور کاروبار معطل ہوگیا۔

گولیاں

کراچی پولسی کے سرراہ وسیم احمد کے مطابق ان افراد میں ایم کیو ایم کا ایک اور اے این پی کے چار کارکن شامل ہیں۔

پولیس سرجن حامد علی نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کی شام سے رات تک آٹھ لاشیں ہپستالوں میں لائی گئیں، جن میں پانچ جناح، دو عباسی شہید اور ایک سول ہسپتال پہنچائی گئی ہے۔

بدھ کی شام صدر کے علاقے لکی سٹار پر ایک لینڈ کروزر پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی جس میں ایک شخص عبدالرحمان ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا، واقعے کے بعد صدر ایمپریس مارکیٹ میں شدید فائرنگ کی گئی جس کے بعد تمام بازار بند ہوگئے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان عبدالماک کا کہنا ہے کہ مقتول محمود آباد سے عوامی نیشنل پارٹی کے احتجاج میں شرکت کے لیے آیا تھا واپسی کے وقت ان پر حملہ کیا گیا۔

شاہ فیصل کالونی کے علاقے شمع شاپنگ پلازہ کے پاس گزشتہ رات نبی داد خان کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا، جن کی لاش سمیت بدھ کو گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا گیا۔

پولیس نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی مگر وہ رکاوٹیں ہٹا کرگیٹ تک پہنچ گئے۔ پولیس نےاس موقعے پر آنسو گیس کا ایک شیل بھی فائر کیا۔

قصبہ کالونی کے علاقے شہزاد سینما روڈ پر نامعلوم افراد کی فائرنگ میں بخت باچا نامی شخص ہلاک ہوگیا۔ اس طرح لانڈھی کے علاقے مجید کالونی میں محمد امین محسود پر مسلح افراد نے فائرنگ کی جس میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔ اس سے قبل گزشتہ شب بلال کالونی خواجہ اجمیر کالونی میں عبدالحیکم فائرنگ میں ہلاک ہوگئے تھے۔

دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ بنارس کے قریب ولیکا ہسپتال کے پاس ایک پچیس سالہ نوجوان نامعلوم افراد کی فائرنگ میں ہلاک ہوگیا جب کہ ایک چالیس سالہ شخص انجم اورنگی کے علاقے میں زخمی ہوگیا جسے عباسی ہہسپتال پہنچایا گیا مگر طبی امداد دیے جانے کے دوران ہلاک ہوگیا۔

Image caption سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے کراچی کے واقعات کا از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

شاہ فیصل ٹاؤن الفلاح کالونی میں موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم افراد نے فائرنگ کی جس میں حیدر علی اور ندیم پھلپوٹو ہلاک ہوگئے جب کہ حیدر علی کے بیٹے سفیان زخمی ہوگئے۔ اسی طرح سول ہسپتال کے پاس فائرنگ میں ایک بائیس سالہ نوجوان ہلاک ہوگیا جس کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق شہر میں موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی ہے مگر اکثر واقعات میں ملزم موٹر سائیکل پر ہی سوار تھے۔ ٹارگٹ کلنگز کے واقعات کی روک تھام کے لیے رینجرز کو خصوصی اختیارات بھی دیے گئے مگر اس کوئی مثبت نتیجہ تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔

ماڈل کالونی کے علاقے گول گراونڈ کے پاس نامعلوم افراد کی فائرنگ میں پچیس سالہ محمد نبی ہلاک ہوگئے ہیں پولیس کے مطابق مقتول افغانی ہے۔ دوسری جانب ملیر موسیٰ کالونی میں فائرنگ میں انتیس سالہ موسیٰ خان ہلاک اور نواز خان، عجب زخمی ہوگئے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر اور پختون ایکشن کمیٹی کے چئرمین شاہی سید نے ہلاکتوں کے حالیہ واقعات کو انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل ناکامی قرار دیا ہے۔ انہوں نے ان واقعات کو پختونوں کی نسل کشی قرار دیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

شاہی سید کا کہنا ہے ان واقعات میں وہی عناصر شامل ہیں جو سانحہ 12بارہ مئی میں ملوث تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ کافی عرسے سے پورے شہر میں ٹارگٹ کلنگ ایک بہت ہی منظم طریقے سے جاری ہے اور اس میں ایک ہی قسم کا اسلحہ استعمال ہو رہا ہے اور مارنے والوں کا انداز بھی ایک جیسا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ اس میں ایک ہی گروہ ملوث ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں کراچی کے واقعات پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی پر جتنا حق دیگرقومیتوں اور اے این پی کاہے اتناہی حق ہزارے وال کاہے اور کراچی کاامن پورے شہرکے عوام کے مفادمیں ہے۔ لہٰذا وہ اے این پی اورہزارہ صوبہ تحریک چلانے والوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ایک دوسرے کے بینر اور پوسٹر جلانے کے بجائے ایک دوسرے کو برداشت کریں اور ایک دوسرے کے خلاف اشتعال انگیز بیانات سے گریزکیاجائے۔

اس سے قبل مہاجر قومی موومنٹ حقیقی کی جانب سے ٹارگٹ کلنگز اور نو گو ایریاز کے خلاف بدھ کی صبح سپریم کورٹ کے قریب احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ جس وقت یہ مظاہرہ جاری تھا اس وقت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری مقدمات کی سماعت کر رہے تھے۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ چیف جسٹس ٹارگٹ کلنگز کا ازخود نوٹس لیں اور نو گو ایریاز ختم کیے جائیں۔

اسی بارے میں