اورکزئی:چیک پوسٹ پر طالبان کا حملہ

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں فوجی حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان تازہ جھڑپوں میں چالیس سے زائد شدت پسند اور دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

ان جھڑپوں میں اکیس سکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

فوج کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پیر اور منگل کے درمیانی رات اورکزئی ایجنسی کے علاقے ڈبوری میں مُسلح شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر راکٹوں اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا جس کے نتیجہ میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ اکیس زخمی ہوگئے۔

اہلکار کے مطابق زخمیوں میں ایف سی اور فوجی اہلکار شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ چیک پوسٹ پر حملے میں سو سے زیادہ شدت پسندوں نے حصہ لیاتھا۔

انہوں نے بتایا کہ حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی جس میں چالیس سے زیادہ شدت پسند مارے گئے۔اہلکار کے مطابق کارروائی کے دوران توپخانے کو بھی استعمال کیاگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈبوری اور آس پاس کے علاقوں میں شدت پسندوں کے کئی ٹھکانوں کو تباہ کر دیاگیا ہے۔

خیال رہے کہ دو دن پہلے بھی اورکزئی ایجنسی کے علاقے خوا ستوری خیل میں ایک چیک پوسٹ پر شدت پسندوں کے حملے بعد بھی سکیورٹی فورسز کی جوابی کاروائی میں چالیس شدت پسند مارے گئے تھے۔

خیال رہے کہ اورکزئی ایجنسی میں گزشتہ چند ہفتوں سے سکیورٹی فورسز کی غیر اعلانیہ آپریشن میں تیزی آئی ہے اور روزانہ کسی نہ کسی ٹھکانے کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس فوجی کارروائی کے نتیجے میں ہزاروں افراد نے متاثرہ علاقے سے نقل مکانی کر کے ہنگو، کوہاٹ اور پشاور میں پناہ لی ہے۔

اسی بارے میں