کوئٹہ میں بم حملہ، چار اہلکار زخمی

حملے میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک بم میں حملے میں سکیورٹی فورسز کے چار اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

بلوچ مسلح تنظیم ( بی ایل اے) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

کوئٹہ کے نواحی علاقے میاں غنڈی میں بدھ کے روز اس وقت نامعلوم افراد نے سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر دستی بم سے حملہ کیا جب اہلکار علاقے میں نامعلوم افراد کی جانب سے تخریب کاری کا نشانہ بنے والے بجلی کے ایک ٹاور کا معائنہ کرنے جا رہے تھے۔

اس ٹاور کی تباہی کی وجہ سے کوئٹہ سے مستونگ کو بجلی کے سپلائی متاثر ہوئی ہے۔

کوئٹہ میں ایف سی کے ترجمان مرتضی بیگ نے بی بی سی کو بتا یا ہے کہ حملے میں ایف سی اور پولیس کے چار اہلکار زخمی ہوئے ہیں اور ایک گاڑی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

دوسری جانب بلوچ لیبریشن آرمی کے ترجمان آزاد بلوچ نے ایک نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون کرکے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

انہوں نے دعوٰی کیا کہ حملے میں سکیورٹی فورسز کے چار اہلکار ہلاک اور گیارہ زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے بلوچستان پیکیج کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بلوچوں کی جدوجہد بلوچستان کی آزادی تک جاری رہےگی۔

دوسری جانب نامعلوم افراد نے ڈیرہ بگٹی کے علاقے سے بلوچستان کانسٹیبلری کے چار اہلکاروں کو اغواء کرلیا ہے اور پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مغویان کی تلاش شروع کردی ہے۔

اسی بارے میں