دھاگہ درآمدات پر ڈیوٹی، مالکان ہڑتال پر

ہڑتال میں ٹیسٹائیل سیکٹر کے ملازمین بھی شامل ہیں پاکستان کے ٹیکسٹائل ملز مالکان اور مزدورں نے حکومت کی جانب سے دھاگے کی درآمد پر پندرہ فیصد ڈیوٹی کے نفاذ کے خلاف ہڑتال کی ہے۔

اسی سلسلے میں کراچی کے ساتھ ملتان اور فیصل آباد میں احتجاج کیا گیا ہے۔

پاکستان میں تقریباً ساڑھے چار سو سپننگ فیکٹریاں ہیں جن میں ماہانہ دو لاکھ اسی ہزار ٹن دھاگا بنانے کی گنجائش ہے۔ اس دھاگے کا اسّی فیصد مقامی صنعت میں استعمال ہوتا ہے جبکہ بیس سے بائیس فیصد درآمد کیا جاتا ہے۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق اس سے قبل ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل کے صنعت کاروں نے احتجاج کیا تھا، جن کا کہنا تھا کہ گزشتہ چھ ماہ سےگارمنٹس، ہوزری، ٹاوول، فیبرک، نٹ ویئر، بیڈ شیٹس، اور ڈینم مینوفکچر کی صنعت دھاگے کی قلت سے دوچار ہے۔ اس کی ذمہ دار سپننگ شعبہ ہے، جس نے دھاگے درآمد کردیا ہے۔

اس شعبے کے احتجاج کے بعد حکومت نے دھاگے کی درآمد روکنے کے لیے پندرہ فیصد ڈیوٹی لگا دی ۔

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسو سی ایشن سندھ اور بلوچستان ریجن کےصدر یاسین صدیق کا کہنا ہے کہ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل شعبے والے جھوٹا واویلا کر رہے ہیں کہ دھاگہ نہیں مل رہا۔ در حقیقت بڑے پیمانے پر دھاگا دستیاب ہے مگر ان میں منصفانہ تقسیم نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دھاگے کی قیمت میں کپاس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے اضافہ ہوا ہے جو روکنا کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسو سی ایشن کے رکن مینجمنٹ کمیٹی کے رکن آصف انعام کا کہنا ہے کہ آٹھ ماہ قبل کپاس پچاس سینٹ میں فروخت ہوئی ہے۔ حکومت سب سے بڑی ایکسپورٹر ہے جس نے ٹی سی پی کے ذریعے پونے دو لاکھ گانٹھیں کپاس درآمد کی اس وقت انہیں کیا کپاس کی موجودگی کا خیال نہیں آیا۔

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسو سی ایشن یعنی اپٹما سندھ اور بلوچستان ریجن کےصدر یاسین صدیق کا کہنا ہے کہ ٹیکسٹائل وزارت نے ان سے سوتیلا سلوک روا رکھا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’پہلے فیکٹریوں کی رجسٹریشن کرائی گئی اس کے بعد پچاس ٹن دھاگا ایکسپورٹ کرنے کا کوٹا مقرر کردیا گیا ہے اور اب اس کو کم کرکے پینتیس ہزار ٹن کردیا ہے اور اس پر بھی پندرہ فیصد ڈیوٹی لگا دی گئی ہے ‘۔

Image caption دھاگے کی کمی نہیں لیکن اس کی دستیابی کا مسئلہ ہے

کپاس کی جننگ کے بعد اسپیننگ پہلے مرحلہ ہے جس پر کم سے کم ایکسپورٹ ڈیوٹی لگا رہے ہیں ساڑھے تین ڈالر فی کلو گرام جبکہ ٹاول کو پونے تین ڈالر میں جانے دے رہے ہیں جسے کئی معاملات میں استثنیٰ حاصل ہے ٹیسکائٹل انڈسٹری میں ایک طرفہ معاملات چل رہے ہیں۔

آپٹما کی ریان ایکسپورٹ کمیٹی کے سربراہ زاہد مظہر کا کہنا ہے کہ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل شعبے کا کہنا ہے کہ انہیں دھاگہ نہیں مل رہا جبکہ جنوری سے دھاگے کی مفت امپورٹ کی اجازت ہے۔ ’وہ دنیا کے جس خطے سے چاہئیں دھاگا لے سکتے ہیں مگر وہ اس میں ناکام رہے ہیں یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی دھاگا دنیا میں سب سے زیادہ سستا ہے‘۔

انہوں نے دھاگے کے بحران کا ذمہ دار ویلیو ایڈڈ سیکٹر کو قرار دیا اور حکومت کو تجویز دی کہ اس شعبے کو وہ تین ماہ سے زیادہ کا مال بیچنے کی اجازت نہیں ہوناچاہیئے، ان کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دیا جائے اور ان پر کم سے کم ڈیوٹی لگانا چاہیئے۔

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسو سی ایشن کا کہنا ہے کہ پندرہ فیصد ڈیوٹی کے نفاذ کے بعد پچھہتر ہزار ٹن کے آرڈر رک گئے ہیں، زاہد مظہر کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو خریدار بھاگ جائےگا جو بیس پچیس سالوں میں ساکھ اور نام بنایا ہے وہ پوزیشن ساری دھری کی دھری رہ جائیگی۔

اسی بارے میں