باجوڑ متاثرین کی واپسی شروع

Image caption باجوڑ کے مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ واپس جانے والے متاثرین میں اکثریت ان افراد کی ہے جو انتہائی غریب ہیں

تقریباً دو سال قبل فوجی آپریشن کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے متاثرین باجوڑ ایجنسی کی واپسی کا عمل ایک بار پھر شروع ہوگیا ہے اور پچھلے ایک ہفتہ کے دوران ہزاروں خاندان اپنے گھروں کو واپس لوٹ چکے ہیں۔

پشاور میں پروونشل ڈیزاسٹر منجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ بارہ مئی سے متاثرین باجوڑ ایجنسی کی واپسی کا آغاز کیا گیا ہے اور اب تک تقریباً پانچ ہزار خاندان اپنے گھروں کو واپس جاچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعرات کی صبح بھی جلوزئی مہاجر کیمپ پشاور سے دو سو آٹھ گھرانوں پر مشتمل ایک قافلے کو اسی گاڑیوں میں رخصت کیا گیا۔

اہلکار کے مطابق واپس جانے والے متاثرین کا تعلق باجوڑ ایجنسی کے تین تحصیلوں ماموند، چارمنگ اور خار سے بتایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تحصیلوں کے باون دیہات کو پولیٹکل انتظامیہ کی طرف سے پہلے ہی محفوظ قرار دیا جاچکا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے اہلکار نے مزید بتایا کہ متاثرہ گھرانوں کو حکومت کی طرف سے ایک ماہ کا مفت راشن اور فری ٹرانسپورٹ فراہم کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جلوزئی کیمپ میں اب بھی باجوڑ کے تقریباً پندرہ ہزار خاندان مقیم ہیں جبکہ پلوسہ اور چارسدہ کے پناہ گزین کیمپوں کو بند کرکے وہاں کے متاثرین کو بھی جلوزئی منتقل کیا گیا ہے۔ باجوڑ متاثرین کےلیے ضلع لوئر دیر کے مقامات ثمر باغ، سدبر کلی، خونگی شاہ، ولی کنڈاؤ ایک اور ولی کنڈاؤ دو میں بھی پناہ گزین کمیپ بنائے گئے ہیں۔

پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق باجوڑ کے مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ واپس جانے والے متاثرین میں اکثریت ان افراد کی ہے جو انتہائی غریب ہیں اور جس کا کوئی اور ذریعہ معاش نہ ہونے کی وجہ سے وہ پناہ گزین کیمپوں میں صرف امداد کے لئے مقیم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ متاثرین اپنی مرضی سے نہیں جارہے ہیں بلکہ پناہ گزین کیمپوں اور امداد کو بند کیا جارہا ہے لہذا ان کے پاس واپس جانے کے سوا اور کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن کی وجہ سے علاقے میں صورتحال بہتر ضرور ہوئی ہے لیکن وہاں اب بھی خوف و ہراس پایا جاتا ہے جسکی وجہ سے علاقے کے خان ، نواب اور بااثر افراد واپس جانے سے گریزاں ہیں۔

باجوڑ ایجنسی میں اگست دو ہزار اٹھ میں ہونے والے فوجی آپریشن کی وجہ سے تقریباً پانچ لاکھ افراد بے گھر ہوئے تھے۔ یہ متاثرین تقریباً تین مرتبہ اپنے اپنے علاقوں کو واپس ہوئے لیکن فوجی کاروائیوں اور شدت پسندوں کے خوف کے باعث انھیں دوبارہ بے گھر ہونا پڑا۔

علاقے میں آپریشن اور شدت پسندوں کی کارروائیوں کے باعث ہزاروں، مکانات، سکول، بنیادی صحت کے مراکز، سرکاری دفاتر اور دوکانیں تباہ ہوچکے ہیں۔ لیکن حکومت کی طرف سے علاقے میں ابھی تک بحالی کا کوئی کام شروع نہیں ہوسکا ہے جسکی وجہ سے وہاں بدستور بے یقینی اور خوف کی کفیت برقرار ہے۔