’شمالی وزیرستان: فیصلہ نہیں ہوا‘

دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط
Image caption ’پاکستان اپنے منصوبوں کے مطابق آپریشن کر رہا ہے۔ مگر ابھی تک اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا‘۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور جب بھی کارروائی ضروری ہوئی تو فیصلہ پاکستان نے خود کرنا ہے۔

جمعرات کو ہفتے وار بریفنگ کے موقع پر انہوں نے اعلیٰ امریکی اہلکاروں کے دورے کے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ’پاکستان اپنے منصوبوں کے مطابق آپریشن کر رہا ہے ۔ جہاں تک شمالی وزیرستان کا تعلق ہے تو یہ ہمارا خود مختار فیصلہ ہوگا کہ کب اور کیسے کرنا ہے۔ مگر ابھی تک اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا‘۔

ترجمان نے بظاہر یہ تاثر دیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا دباؤ برداشت نہیں کرے گا۔ لیکن ڈرون حملے ہوں یا ’مزید کرو‘ کے مطالبے پاکستان نے امریکہ کو کبھی ناراض یا نا امید بھی نہیں کیا۔

قبائلی علاقوں میں کارروائی کے متعلق سعودی عرب کے کردار کے بارے میں ترجمان نے دہشت گردی کے خلاف تعاون سمیت تمام شعبوں میں دونوں ممالک کے گہرے تعلقات ہیں اور ایک دوسرے کا ساتھ تعاون کرتے ہیں اور یہ تعاون اب بھی موجود ہے۔

بھارتی وزیر خارجہ کے حالیہ بیان پر انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو بات چیت کے ذریعے اعتماد اور بھروسہ پختہ کرنا ہوگا تاکہ تمام مسائل حل ہوسکیں۔ بھارت میں قید پاکستانیوں کے متعلق سوال پر انہوں نے بتایا کہ سنہ دو ہزار آٹھ کے معاہدے کے تحت پاکستان اور بھارت ہرسال یکم جنوری اور یکم جولائی کو ایک دوسرے قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کرتے ہیں۔

ان کے بقول معاہدے کے مطابق گرفتاری کے نوے روز کے اندر ایک دوسرے کے قیدیوں تک سفارتی رسائی دینا لازم ہے۔ بھارت کی جانب سے یکم جنوری کو فراہم کردہ تازہ فہرست کے مطابق چھ سو تینتیس پاکستانی بھارتی جیلوں میں قید تھے، جس میں ایک سو چوبیس مچھیرے شامل تھے۔ ان کے مطابق گزشتہ برس کے آخر میں پاکستان نے ایک سو بھارتی مچھیرے رہا کیے جب کہ بھارت نے اکتیس پاکستانی مچھیرے رہا کیے۔

ترجمان نے بتایا کہ بھارت نے اپنی عدالت اعظمیٰ کےحکم پر سترہ سویلین پاکستانی قیدی بھی چھوڑے لیکن تاحال پانچ سو پچاسی سویلین قیدی بھارتی جیلوں میں بند ہیں اور ان میں سے ایک سو سے زیادہ قیدیوں تک سفارتی رسائی نہیں دی۔ ان کے مطابق بھارت نے لاپتہ اٹھارہ پاکستانی فوجیوں کے متعلق بھی تاحال کوئی معلومات فراہم نہیں کی۔ سنہ دو ہزار تین سے اب تک پاکستان نے تین ہزار کے قریب بھارتی قیدی رہا کیے جب کہ بھارت نے ایک ہزار کے قریب پاکستانی قیدی چھوڑے ہیں۔

کشن گنگا منصوبے کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دو تین روز قبل بھارت کو با ضابطہ طور پر مطلع کیا ہے کہ پاکستان یہ معاملہ عالمی ثالث کے پاس لے جانا چاہتا ہے اور امید ہے کہ بھارت ایک ہفتے کے اندر مثبت جواب دے گا۔

ایران پر پابندیوں کے متعلق ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق ترکی، برازیل اور ایران میں تعاون مثبت عمل ہے۔

کوئٹہ میں امریکی قونصل خانہ کھولنے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان امریکی درخواست پر غور کر رہا ہے۔ امریکہ اور پاکستان کی جانب سے ایک دوسرے کے سفارتی عملے سمیت متعدد افراد کو ویزا جاری نہ کرنے کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ’تاخیر تو ہے لیکن انکار نہیں ہے اور یہ فرق ذہن میں رکھنا چاہیے اور میں یقین دلاتا ہوں کہ دونوں ممالک میں ویزے کا معاملہ اپنے طریقۂ کار کے تحت جلد حل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے‘۔

اسی بارے میں