’آئی ایس آئی کا سربراہ سویلین ہو‘

’اشفاق کیانی کو پر امن طریقے سے ریٹائر ہوتا دیکھ رہا ہوں‘

دفاعی امور کے ایک امریکی ماہر ڈینئل این نیلسن نے کہا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ سول انتظامیہ سے ہونے چاہیئں۔ان کے مطابق اس سلسے میں پاکستان کی پہلی کوشش ناکام ہوسکتی ہے مگر دوسری کوشش ناکام ہو یہ ضروری نہیں ہے۔

وہ بدھ کی شام مقامی ہوٹل میں سول ملٹری تعلقات کے موضوع پر ایک کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

امریکی قونصل جنرل کراچی کے زیر اہتمام کانفرنس میں گلوبل کنسیپٹ اینڈ کمیونیکشن کے سربراہ اور واشنگٹن میں سینٹر فار آرمز اینڈ نان پرولیفریشن کے رکن ڈینئل نیلسن کے مطابق وہ پاکستان میں فوجی اداروں پر سویلین کا انتظامی اختیار دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی پر سویلین کنٹرول کے ابتدائی دنوں میں پاکستانی فوج اور سول حکمرانوں کے درمیاں تعلقات میں کچھ تلخی ضرور پیدا ہوگی مگر آہستہ آہستہ دھول بیٹھ جائیگی۔ انہوں نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی ای کے نئے سربراہ کے تقرر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب صدر اوباما نے لیون پنیٹا کو سی آئی اے کا نیا سربراہ مقرر کیا تو کئی لوگ اس کے خلاف تھے مگر آہستہ آہستہ سب کو صدر کا فیصلہ قبول کرنا پڑا۔

امریکی دفاعی ماہر ڈینئل نیلسن نے کہا ہے کہ وہ کوئی نجومی تو نہیں ہیں مگر وہ پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو پرامن طریقے سے عہدے سے ریٹائر ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ جو ان کے مطابق پاکستان کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب نئے فوجی سربراہ کا تقرر وزیراعظم گیلانی کریں گے تو وہ فوجی سربراہ ایک اخلاقی دباؤ میں رہیں گے۔

پاکستان میں ماضی کے فوجی آمروں کی امریکی مدد کے حوالے سے پوچھے گئے کئی سوالات کا جواب انہوں نے تحمل سے دیا اور آخری فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کے بارے میں کہا کہ امریکہ کا مشرف سے کوئی ’لو افیئر‘ نہیں تھا۔

’امریکہ نے مشرف کو بنایا نہ ابھارا۔ان حالات میں وہ ہی پاکسان کے معاملات سنبھال رہے تھے تو امریکہ کو مشرف سے ہی بات کرنا پڑی۔‘

ان کے مطابق امریکہ کے پاس بڑے شیطان سے لڑنے کے لیے چھوٹے شیطان سے تعاون کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

امریکی دفاعی ماہر ڈینیئل نیلسن نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں پاکستانی فوج اور سویلین تعلقات میں سکے کا رخ بدلنے کا امکان ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی سکیورٹی اداروں کے امور بشمول بجٹ پر سول انتظامیہ کا کنٹرول ہونا چاہیئے۔

امریکی دفاعی ماہر کے مطابق امریکی موجودگی پاکستان میں سویلین حکمرانی کو مزید مستحکم کرے گی اور صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے تمام ممالک میں سویلین حکمرانی کی امریکی حمایت جاری رہے گی۔

اسی بارے میں