نئی پارٹی کے لیے الیکشن کمیشن سے مشرف کی درخواست

پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے آل پاکستان مسلم لیگ کے نام سے نئی سیاسی جماعت کے لیے الیکشن کمیشن میں باقاعدہ درخواست جمع کروا دی ہے۔

سابق صدر مشرف کی جانب سے یہ درخواست بیرسٹر محمد علی سیف نے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی ہے۔

خیال رہے کہ سابق صدر مشرف ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں جہاں وہ اہم شخصیات سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

جمعرات کو انھوں نے امریکی ٹی وی چینل سی این این کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ پاکستان کی سیاست میں حصہ لینے کے لیے واپس جانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں تاہم انھوں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر وطن واپسی کی کوئی حتمی تاریخ دینے سے گریز کیا۔

انتخاب سے پہلے واپس جاؤں گا: مشرف

پاکستان کے الیکشن کمیشن کے ترجمان افضل خان قذافی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آل پاکستان مسلم لیگ کے نام سے نئی سیاسی جماعت کو الیکشن کمیشن کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے بیرسٹر محمد علی سیف نے ایک درخواست گزشتہ دنوں جمع کروائی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بیرسٹر سیف نے یہ درخواست آل پاکستان مسلم لیگ کے چیئرمین کی حیثیت سے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ کسی بھی پارٹی کو الیکشن کمیشن کی فہرست میں شامل ہونے کے لیے دو شرائط پوری کرنا ہوتی ہے۔

اس میں سے ایک پارٹی کے اندر انتخاب اور دوسرا دو ہزار دو کے پارٹی آڈر کے تحت اس جماعت کا منشور جمع کروانا ہوتا ہے اور بیرسٹر سیف نے ان دونوں شرائط کے سرٹیفکیٹ درخواست کے ساتھ جمع کروائے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ درخواست دائر ہونے کے بعد آل پاکستان مسلم لیگ نام کے دوسرے دعویداروں نے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس نام کے متعدد دعویدار سامنے آنے کے بعد’ آل پاکستان مسلم لیگ کا نام بیرسٹر سیف کو دینے یا نہ دینے کا فیصلہ الیکشن کمیشن کے اجلاس میں کیا جائے گا جو آئندہ چند روز میں منعقد ہو گا۔‘

انھوں نے بتایا کہ بیرسٹر سیف کی درخواست میں سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کا نام شامل نہیں ہے۔

الیکشن کمیشن کے ایک اعلیٰ اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ مسلم لیگ کے نام سے ملک میں موجود دوسری سیاسی جماعتوں نے آل پاکستان مسلم لیگ نام کی مخالفت میں الیکشن کمیشن میں درخواستیں جمع کروائی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان جماعتوں میں مسلم لیگ نون، مسلم لیگ قاف، فنکشنل، نیشنل اور عوامی مسلم لیگ کے نام شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان جماعتوں نے سابق صدر پرویز مشرف کو مسلم لیگ کے نام سے سیاسی جماعت بنانے کی مخالفت کی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اب یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے سامنے ہے اور اس کے بورڈ کے آئندہ اجلاس میں آل پاکستان مسلم لیگ کے نام کا فیصلہ کیا جائے گا۔

جنرل پرویز مشرف کے دور میں حکمران سیاسی جماعت مسلم لیگ قاف کے رہنما کامل علی آغا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ کسی کی خواہش اور دعوے پر پابندی تو نہیں لگائی جا سکتی ہے اور اس ملک میں ہر کسی کو پورا اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی پارٹی بنائے۔‘

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ قاف ایک سیاسی جماعت ہے اور اس نے چوہدری شجاعت حسین کو تیسری بار پارٹی کا سربراہ منتخب کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم لیگ قاف پرویز مشرف کی ملکیت نہیں تھی اور اگر ایسا ہوتا تو پرویز مشرف کو نئی سیاسی جماعت بنانے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔

کامل علی آغا نے کہا کہ سابق صدر مسلم لیگ قاف کے جن لوگوں کے بارے میں دعوے کر رہے ہیں کہ وہ ان جماعت میں شامل ہونا چاہتے تو وہ ان کے نام تو بتا ئیں کیونکہ ابھی تک مسلم لیگ قاف کے کسی رہنما نے ان کی جماعت میں شامل ہونے کے لیے پرویز مشرف سے رابط نہیں کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ابھی تک کسی ریٹائرڈ جنرل کو سیاست میں آنے پر عوام کی جانب سے کوئی خاص پذیرائی نہیں ملی اور اب ان کے سیاست میں آنے پر ہی پتہ چلے گا کہ عوام سے ان کو کتنی پذیرائی ملتی ہے۔

اسی بارے میں