’ہنزہ جھیل پر ڈیم بنانا ممکن نہیں‘

ہنزہ
Image caption علاقہ تنگ ہونے کے باعث وہاں پر زیادہ مشینری سے کام کرنا ممکن نہیں تھا: ندیم احمد

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل (ر) ندیم احمد نے کہا ہے کہ ہنزہ میں بننے والی جھیل کو مستقل ڈیم میں تبدیل کرنا ممکن نہیں اور اس کے ٹوٹنے سے تربیلا کو کسی قسم کاکوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

یہ بات انہوں نے بی بی سی اردو سروس کے ریڈیو پروگرام ٹاکنگ پوائنٹ میں سامعین کے سوالوں کا براہ راست جواب دیتے ہوئے کہی۔

’ہنزہ جھیل سے تربیلا ڈیم کو خطرہ نہیں‘

اس جھیل پر مستقل ڈیم بنانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جنرل ندیم احمد کا کہنا تھا کہ ’ہنزہ جھیل کا پانی بلآخر تربیلا جھیل میں جائے گا اور تربیلا میں بجلی پیدا ہوتی ہے۔ اگر اس پانی کو یہاں روکا گیا تو جو آبادیاں زیر آب آ چکی ہیں یہ ان کے اوپر بہت بڑا ظلم ہوگا۔‘

جنرل ندیم احمد نے کہا کہ ڈیم بنانے کے لیے تکنیکی باتوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے اور قدرتی لینڈ سلائیڈ کے نتیجے میں ڈیم نہیں بنائے جاتے۔

جنرل ندیم احمد نے مقامی اخبارات میں آنے والی ان خبروں کو مسترد کیا کہ عطا آباد کی جھیل میں شگاف پڑنے سے تربیلا ڈیم کو کوئی خطرہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے اعدادو شمار دیتے ہوئے وضاحت کی کہ’ ہنزہ جھیل میں اس وقت پانی کی مقدار 0.13 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ جبکہ تربیلا میں 6.67 ملین ایکڑ فٹ پانی محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ اس لحاظ سے جھیل میں موجود پانی تربیلا کی صلاحیت کے صرف دو فیصد ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’گلگت ہنزہ سے ایک سو تین کلومیٹر دور ہے جہاں تک پہنچتے پہنچتے پانی کا بھاؤ بیٹھ جائے گا۔ اور تربیلا مزید دو سو کلومیٹر دور ہے۔ اس لیے ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ تربیلا خطرے میں ہے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ چار جنوری کو لینڈ سلائیڈ شروع ہونے کے بعد فوری اقدامات کیوں نہیں کیے گئے اور حالات اس نہج پر کیوں پہنچے جنرل ندیم احمد کا کہنا تھا کہ ادارے کی جانب سے فوری اقدامات کیے گئے تھے لیکن علاقہ کے دشورا گزار اور تنگ ہونے کے باعث وہاں ایک وقت پر زیادہ مشینری سے کام کرنا ممکن نہیں تھا۔

ہنزہ جھیل کے بننے سے شاہراہ قراقرم کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں جنرل ندیم احمد کا کہنا تھا کہ اس شاہراہ سے ہزاروں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے اور پانی نکلنےکے دو تین ماہ کے اندر ایک عارضی راستہ بنانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ آمد و رفت کو بحال کیا جا سکے۔ ندیم احمد کا کہنا تھا کہ شاہراہ قراقرم کے مستقل حل میں دو سے تین سال لگ سکتے ہیں۔

پروگرام میں شامل ہنزہ کے ڈپٹی کمشنر ظفر وقار تاج نے ہنزہ جھیل پر بنے مصنوعی بند کے حوالے سے بتایا کہ بند میں شگاف پڑنے کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا اور اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو اس حوالے سے تیاریاں کر لی گئی ہیں اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں