وزیرستان: ڈرون حملوں میں دس افراد ہلاک

فائل فوٹو
Image caption گزشتہ تین ماہ کے دوران دتہ خیل میں چودہ ڈرون حملوں میں سو افراد ہلاک ہوئے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ دو ڈرون حملوں میں دو خواتین سمیت دس افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق حملے میں حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان کو نشانہ بنایا گیا اور حملے میں کوئی اہم شخص کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

شمالی وزیرستان میں ایک سرکاری اہلکار نے پشاور میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ سے تقریباً تیس کلومیٹر دور مغرب کی جانب تحصیل دتہ خیل کے علاقے محمد خیل میں اس وقت پیش آیا جب دو مُبینہ امریکی جاسوس طیاروں نے چار میزائل حملوں میں ایک مکان کو نشانہ بنایا۔

سرکاری اہلکار کے مطابق مکان پر ڈرون حملے میں حافظ گل بہادر گروپ کے آٹھ طالبان ہلاک ہو گئے جب کہ حملے میں قریبی مکان کے ایک کمرے کو نقصان پہنچا جس میں دو خواتین ہلاک ہو گئی ہیں۔

اس حملے میں دو بچوں سمیت پانچ افراد زخمی بھی ہو گئے ہیں جنھیں میرانشاہ کے ہسپتال میں منقتل کر دیا گیا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق جمعہ کی شام سے شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں پر چار جاسوس طیاروں کی پروازیں جاری تھیں اور حملے کے دوران فضا میں چار جاسوس طیارے موجود تھے۔

مقامی لوگوں کے مطابق ڈرون حملوں کی دھماکوں سے پورے علاقے میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا اور دھماکوں سے پہلے لوگوں گھروں سے باہر نکل آئے تھے۔

سرکاری اہلکار کا کہنا ہے کہ تین ماہ کے دوران شمالی وزیرستان میں سب سے زیادہ ڈرون حملے دتہ خیل کے علاقے میں ہوئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ تین ماہ کے دوران چودہ ڈرون حملوں میں ایک سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں نے فوج سے کہا ہے کہ وہ صبح سات سے شام سات بجے تک نقل و حرکت بند کر دیں۔

طالبان کی جانب سے جاری ایک بیان میں اس فیصلے کو فوج کی جانب سے گزشتہ دنوں قبائلیوں کو پمفلٹس کے ذریعے شدت پسندوں کی مدد سے باز رہنے کی مبینہ اپیل کا جواب قرار دیا ہے تاہم فوج ایسے کسی دستی پیغام کی تقسیم سے انکار کرتی ہے۔

سرکاری عدادو شمار کے مطابق رواں سال شمالی و جنوبی وزیرستان میں ستر کے قریب ڈرون حملے ہوچکے ہیں جس میں دو سو سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں۔

اسی بارے میں