تب کیا ہوگا؟

جس طرح کچھ نہ کرنا مضر ہے اسی طرح بعض اوقات سب کچھ کرنا بھی نقصان دہ ہے۔جس طرح ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا ٹھیک نہیں ہے اسی طرح ہر بل میں ہاتھ دینا بھی ٹھیک نہیں ہے۔

دو ہزار تیرہ کےبعد کیا ہوگا جب چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ریٹائر ہوجائیں گے

جس طرح پتھر کی طرح ٹس سے مس نہ ہونے والے کو کوئی بھی جانور یا کیڑا کاٹ سکتا ہے اسی طرح ہر وقت پھرتیاں دکھانے کی عادت کے سبب بھی گھاس میں لیٹے کسی سانپ کے سر پر اچانک پاؤں پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ میانہ روی سے بہتر کوئی شے نہیں ہے۔

اس تناظر میں اگر پاکستانی عدلیہ کے ارتقائی سفر کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں دو واضح ادوار نظر آئیں گے۔ پہلے دور میں جو تقریباً ساٹھ برس پر محیط ہے اس میں عدلیہ کی سول و فوجی اسٹیبلشمنٹ سے بنیادی ہم آہنگی نظر آئےگی۔ اہم آئینی فیصلے آئین و قانون کی لچکدار اور بعض اوقات انتہائی لچکدار تشریح کے گرد گھومتے دکھائی دیں گے۔ اس طویل دور میں مفادِ عامہ کے مسائل کا ازخود نوٹس لینے کی بہت کم مثالیں پائی جاتی ہیں۔جیسی صورتحال ویسے ہی فیصلے کا یہ طویل دور نظریہ ضرورت کے کلچر کی پیداوار تھا۔

اس کے برعکس پاکستانی عدلیہ کا دوسرا دور نو مارچ انیس سو سات سے شروع ہوتا ہے۔جب عدلیہ نے ایک طفیلی ذہنیت کی چادر اتار کر پھینک دی اور مملکت کے جن دوسرے اداروں نے عدلیہ کی زمین پر تجاوزات کھڑی کرلیں تھیں انہیں جوڈیشل ایکٹوازم کی روح کے ساتھ پیچھے دھکیلنا شروع کیا۔ توقع یہ تھی کہ عدلیہ اپنی روایتی قوت اور اختیار کی بحالی کے بعد مطمئن ہوجائے گی لیکن لگتا یوں ہے کہ نئی عدلیہ نے اب قانون و آئین کی بلا مصلحت تشریح کے روایتی اور بنیادی منصب پر اکتفا کرنے کے بجائے نظام بدلنے کے لیے تلوار اٹھا لی ہے اور وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک ہر شے اس کی تشریح کے مطابق درست نہیں ہوجاتی۔

نتیجہ اس کا یہ نکل رہا ہے کہ مشرف کی ایمرجنسی اور این آر او کو غیر قانونی قرار دے کر داد و تحسین میں نہانے والی اعلیٰ عدلیہ اب یہ فیصلے کرنا بھی ضروری سمجھ رہی ہے کہ کراچی کی بندرگاہ سے تیل لے جانے والے ہزاروں آئیل ٹینکرز کو کہاں پارک کیا جائے اور کہاں پارک نہ کیا جائے،اور یہ حکم بھی جاری ہو رہا ہے کہ فیس بک پر ہونے والی گستاخیوں پر وزارتِ خارجہ امریکی حکومت سے پرزور احتجاج کرے۔ حکم عدولی کی صورت میں وزیرِ خارجہ کو عدالت کے روبرو وضاحت کرنی ہوگی۔

ان حالات میں بعض قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ عدلیہ کو ہر چھوٹے بڑے مسئلے کو اپنے ہاتھ میں لینے کے بجائے مسائل کی سنگینی اور اہمیت کے لحاظ سے ایک ترجیحاتی رویہ اختیار کرنا چاہییے۔ کیونکہ عدلیہ کے پاس صرف فیصلہ سنانے کی قوت ہے۔اس پر عمل درآمد کے لیے اسے ریاست کے دیگر اداروں کا تعاون چاہییے۔اور ضروری نہیں کہ ہر فیصلے پر اسی طرح عمل ہو جیسی عدلیہ کی خواہش ہے۔ مثلاً لاپتہ افراد کی بازیابی، چینی اور پٹرول کی قیمت میں کمی اور ارکانِ اسمبلی کی جعلی ڈگریوں جیسے معاملات پر ہونے والے فیصلوں پر جس طرح آدھا پونا عمل درآمد ہوا اس سے اعلی عدلیہ کے وقار کے بارے میں سوالات اٹھے ہیں۔

اگر چیف جسٹس اور ان کے برادر جج تمام بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھانے کے بجائے ماتحت عدلیہ کو اگلے تین برس میں اس قابل بنا دیں کہ وہ روزمرہ نوعیت کے فیصلے جرات مندی کے ساتھ بلا مصلحت اس طرح کرے کہ عام آدمی کو ہر درخواست لے کر سپریم کورٹ کی جانب دوڑ لگانے کی ضرورت محسوس نہ ہو تو عدلیہ کے بطور ادارہ استحکام کے لیے اس سے بڑی خدمت کوئی اور نہیں ہوسکتی ۔

وگرنہ دو ہزار تیرہ کے بعد کیا ہوگا جب چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ریٹائر ہوجائیں گے۔

اسی بارے میں