مسلم لیگ سے ایک نئی جماعت کا جنم

پاکستانی سیاست کی سٹار فش جماعت مسلم لیگ ایک نئی پارٹی کو جنم دینے جا رہی ہے۔

مسلم لیگ قائداعظم کے خالق سابق فوجی حکمران پرویز مشرف بظاہر ایک نئی مسلم لیگ کی داغ بیل ڈالنے جا رہے ہیں کیونکہ اطلاعات کے مطابق ان کی خاطر الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ایک نئی سیاسی جماعت کی رجسٹریشن کے لیےتحریری درخواست بھی دائر کردی گئی ہے۔

Image caption پرویز مشرف ایک لمبے عرصے سے بیرون ملک رہائش پذیر ہیں

یہ تو سب جانتے ہی ہوں گے کہ ستارہ نما مچھلی سٹار فش کی یہ خاصیت ہے کہ اگر اس کوکاٹ دیا جائے تو ہر نئے ٹکڑے کی ایک الگ مچھلی بن جاتی ہے۔

مسلم لیگ جسے پاکستان کی خالق جماعت ہونے کا اعزاز حاصل ہے اسے اگر ایک مادر سٹار فش تصور کر لیا جائے تو پھر اس وقت سے لیکر اب تک اس کے رجسٹرڈ غیر رجسٹرڈ اور زندہ مردہ بچوں کا شمار اگر ناممکن نہیں تو انتہائی دشوار ہے۔

اگر کوئی گنتی کا دعویٰ کر بھی لے تو یقین رکھیے کہ کوئی نہ کوئی اس کو جھٹلا دے گا۔

اب اگر خان لیاقت علی خان سے بغاوت کرنے والے حسین شہید سہروردی کی مسلم لیگ کے ذکر سے شروع کرکے کونسل، کنونشن قیوم لیگ کا ذکر کرتے ہوئے قاسم لیگ، فنکشنل لیگ تک آیا جائے یا مزید آگے بڑھ کر فدا لیگ ،چٹھ لیگ جونیجو لیگ کا ذکر کیا جائے تو کہا جائے گا کہ ’بھئی کیا تاریخ مسلم لیگ کا مضمون پڑھانا شروع کردیاہے۔‘

البتہ یہ بتانے کے لیے کہ اتنی مسلم لیگیں کیوں وجود میں آتی رہی ہیں۔ نوابزادہ نصراللہ کا وہ تاریخی جملہ کافی ہے جس میں انہوں نے مسلم لیگ کو فوجی آمروں کی لونڈی قرار دیا تھا۔

جنرل ایوب خان کی مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل ذوالفقار علی بھٹو تھے۔جنرل ضیاءالحق کی بنائی گئی مسلم لیگ کے مرکزی عہدوں پر نواز شریف فائز رہے اور جنرل پرویز مشرف کی بنائی گئی مسلم لیگ کے مرکزی عہدوں پر فائز چودھری برادران نائبین حاکم کا کردار ادا کرتے رہے۔

اقتدار کا سورج غروب ہوتے ہی پرویز مشرف سمیت مذکورہ تینوں جرنیل کسی نہ کسی طریقے اپنی ہی بنائی گئی مسلم لیگیوں کی سربراہی سے فارغ ہوگئے۔

ایوب خان اور ضیاءالحق کو مسلم لیگوں کی ضرورت اس لیے نہیں رہی کہ ان میں سے ایک جرنیل سیاسی گمنامی کے اندھیرے میں ڈوب گیا دوسرا طیارے سمیت فضاؤں میں بکھرگیا لیکن مسئلہ توتیسرے جرنیل کا ہے وہ کہاں جائے گا؟

ایک سیاسی مبصر نے پھبتی کسی ہے کہ پرویز مشرف کو فیس بک کا فین کلب چین نہیں لینے دے رہا جہاں ان کے بقول ان کے پرستاروں کی تعداد پونے دو لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

اگرچہ یہ کہنا مشکل ہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ان کے فین کلب میں شامل ہونے والے تمام افراد ان کے پرستار ہی ہیں یا ان میں وہ بھی شامل ہیں جو اپنے ذہنی طور پر تو ان کے خلاف ہیں لیکن اپنے ملک کے سابق فوجی حکمران کے خیالات سے آگاہ رہنا چاہتےہیں۔

بہرحال کچھ بھی ہو استاد کا کہنا ہے کہ یہ لیڈری بڑی پرفریب چیز ہے جب لیڈر کے نام کے نعرے لگ رہے ہوں تو اس کے لیے خود پر قابو رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔

پرویزمشرف سیاست بھی کرنا چاہتے ہیں اور انہیں ایک سیاسی جماعت کی بھی ضرورت ہے لیکن ان کی فوجی وردی اترتے ہی چودھری برادران انہیں اس مسلم لیگ قاف کے حوالے سے ٹھینگا دکھا چکے ہیں جسے کبھی خفیہ ایجنسیوں نے ان کی خواہش پر تخیلق کیاگیا تھا۔

چودھری پرویز الہی نے پرویز مشرف کی وردی اترنے کے چند روز بعد بطور خاص ان کا نام لیکر کہا تھا کہ اب وہ آئین پاکستان کی اس شق کا خیال کریں جس کے تحت وہ سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے دوسال تک سیاست میں حصہ نہیں لے سکتے۔

Image caption سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے بقول فیس بک پر ان کے حامیوں کی تعداد پونے دو لاکھ تک پہنچ چکی ہے

دوسال تو پورے ہوگئے لیکن اس دوران میں چودھری برادران مسلم لیگ قاف کو لیکر ان سے اتنےدور نکل گئے کہ اب انہیں ایک دوسرے کی پکار سنائی نہیں دے سکتی۔

آجا کر ایک میاں محمد اظہر ہیں جنہیں گذشتہ دنوں پرویز مشرف کا پیغام ملا تھا کہ دوبئی یا لندن آ کر ان سے مل لیں۔

میاں اظہر کے قریبی ذرائع اس دعوت نامے کا تو اقرار کرتے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ میاں اظہر نے دعوت قبول کی یا نہیں کی۔

میاں اظہر کو یقیناً اپنا وہ بیان یاد آ گیا ہوگا جس میں انہوں نے خود کو ٹشو پیپر قرار دیا تھا۔یہ بیان انہوں نے اس وقت دیا تھا جب سنہ دو ہزار دو کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ چودھری برادران کو سونپ دی گئی تھی۔

Image caption پرویز مشرف کو چودھری برادران مسلم لیگ قاف کے حوالے سے ٹھینگا دکھا چکے ہیں

میاں اظہر نے اپنی الگ مسلم لیگ بنانے کی کوشش کی لیکن چونکہ ایک فوجی حکمران کا ساتھ دینے کی بدنامی کما چکنے کے باوجود ان کی مسلم لیگ سے آمر کی لونڈی ہونے کااعزاز چھین لیاگیا تھا اس لیے سٹار فش کا یہ حصہ مردہ ہوگیا تھا۔

استاد کہتا ہے کہ کارتوس چاہے چلاہوا ہی کیوں نہ ہو،گھوڑا بے شک لنگڑا ہو اورسٹارفش گل سڑ ہی کیوں نہ گئی ہو لیکن زندہ شیر اور اڑتے تیر کے دو برسوں نے عام شہری کو جس اقتصادی بدحالی اور بدامنی سے دوچار کیا ہے اس کے بعد کوئی بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوسکتا ہے کہ شاید تن مردار سے ہی نوید زندگی مل جائے۔

اور کسی دیوانے کی یہ پیشنگوئی کہ ’تیری یاد آئی تیرے جانے کےبعد‘درست ثابت ہوجائے۔

آخر میں پرویز مشرف کے ایک لاہوری ہمدرد کا مشورہ حاضر ہے کہ اگر مخالفین کو آل پاکستان مسلم لیگ کے نام پر اعتراض ہے تو وہ اپنی جماعت کا نام مسلم لیگ مش رکھ لیں، ان کے فیس بک پر موجود پرستاروں کی ایک بڑی تعداد یقینا ًخوش ہوجائے گی۔

اسی بارے میں