کراچی کلنگ: اے این پی کا بائیکاٹ

کراچی میں ہلاکتوں اور کارکنوں کی قتل پر عوامی نیشنل پارٹی کے اراکین نے سندھ اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور مطالبہ کیا کہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ملزمان کو بے نقاب کیا جائے۔

فائل فوٹو، کراچی رینجرز
Image caption کراچی میں گزشتہ دنوں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں انتیس افراد ہلاک ہو گئے تھے

پیر کو اسمبلی اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی امان اللہ محسود نے نقطۂ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ میں پشتون قوم کی نسل کشی ہو رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں کا قتل عام ہو رہا ہے مگر مفاہمت کی پالیسی کی وجہ سے حکومت بے بس ہے۔

امان اللہ محسود نے سوال کیا کہ ایجنسیاں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے آخر کیا کر رہے ہیں، سیاسی پارٹیاں اور اور ایجنسیاں بے بس ہوگئی ہیں۔ آخر ہم کب تک خاموش رہیں، کب تک عوام کو جواب نہیں دیں گے‘۔

امان اللہ محسود کا کہنا تھا کہ گرفتار کیے گئے سترہ افراد کو میڈیا کے سامنے پیش کیوں نہیں کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ اجلاس سے بائیکاٹ کر کے چلے گئے۔

وزیراعلیٰ سید قائم علی شاھ نے ایوان کو بتایا کہ حکومت نے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر شاہی سید، گورنر سندھ اور الطاف حسین تک سے رابطہ کیا اور حکومت کی جو مفاہمت کی پالیسی ہے اس کی وجہ سے کچھ حد تک اس مسئلے پر قابو پا لیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ تمام فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ان واقعات میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی کی جائے اور جو بھی قاتل ہے یا دہشت گرد ہیں انہیں پکڑا جائے۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ گرفتار بھی کیے گئے ہیں، کچھ علاقوں میں گھر گھر تلاشی بھی لی گئی اور ہو سکتا ہے کہ کسی کو اس پر اعتراض ہو مگر حکومت غافل نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث ملزمان کی جو بھی نشاندھی کرائے یا گرفتاری میں مدد فراہم کرے گا اسے ایک کروڑ روپے انعام دیا جائے گا۔

ان کے مطابق رینجرز کو تین ماہ کے لیے خصوصی اختیارات دے دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ حساس علاقوں میں عارضی چوکیاں قائم کی جائیں گی تاکہ آئندہ اگر ایسا کوئی واقعہ پیش آیا تو اسے روکا جا سکے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی وزیر امیر نواب نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور انتظامیہ کو فری ہینڈ ہونا چاہیے اور سیاسی مصالحت اور وابستگی سے بالاتر ہو کر کارروائی کی جائے ۔

ان کے مطابق اگر اے این پی کے لوگ غلط ہیں تو ان سے ابتدا کی جائے مگر اس مسئلے کو کسی منطقی انجام تک پہنچایا جائے، یہ نہ ہو کہ دو تین مہینے کے بعد دوبارہ ٹارگٹ کلنگ شروع ہو اور دوبارہ اجلاس ہوں کہ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق پیر کو اجلاس شروع ہونے سے قبل صبح کو پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ کے اراکین اسمبلی نے حالیہ واقعات میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والے کارکنوں کی مغفرت کے لیے دعا مانگی، متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین نے ٹارگٹ کلنگ کے معاملے پر کوئی بات نہیں کی۔

اسی بارے میں