شریف برادران ہنزہ پہنچ گئے

ہنزہ میں جھیل متاثرین کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امدادی سامان پہنچانے کا عمل جاری ہے جبکہ ہنزہ کے دورے کے پر آئے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے متاثرین کے لیے دس کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔

فائل فوٹو
Image caption حکام کے مطابق جھیل کا پانی سپل وے سے تقریباً پانچ فٹ نیچے رہ گیا تھا

ہنزہ میں فوج کے ہیلی پیڈ کے انچارج کرنل نیاز نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ہنزہ جھیل کے بالائی علاقے شمشال میں پھنسے لوگوں تک امدادی سامان پہنچایا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ بالائی علاقوں کے لوگوں کو ہنزہ میں علی آباد منتقل کیا گیا ہے اور ہنزہ سے لوگوں کو بالائی علاقوں پہنچایا گیا ہے۔

کرنل نیاز نے بتایا کہ سترہ مئی سے جھیل میں بوٹ سروس معطل ہونے کے بعد چار دن ہیلی کاپٹروں نے اڑانیں بھری ہیں۔ اور اس دوران بیالیس اڑانوں میں تحصیل گوجال کے سات سو اڑسٹھ لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا گیا ہے۔

دریں اثنا مسلم لیگ (ن) کے رہنما میاں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے ہنزہ کا دورہ کیا اور جھیل کا فضائی جائزہ لیا۔ دونوں رہنماؤں نے اللت میں قائم متاثرین کے عارضی کیمپ کا دورہ بھی کیا اور اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب نے متاثرین کے لیے دس کروڑ روپے کی امداد کا اعلان کیا۔

متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے اعلان کیا کہ پنجاب حکومت ہنزہ کے متاثرین کے بچوں کو پنجاب میں مفت تعلیم اور رہائش فراہم کرے گی۔

حکام کا اندازہ ہے کہ پچیس مئی تک سپل وے سے پانی کے اخراج شروع ہو جائے گا

اس سے قبل اتوار کو حکام نے بتایا تھا کہ جھیل میں پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے اور جھیل پر بنائے گئے سپِل وے سے پانی صرف پانچ سے چھ فٹ نیچے رہ گیا تھا۔

اتوار کو سکیورٹی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ جھیل میں پانی کی سطح اب اس بلندی پر پہنچ چکی ہے کہ اس میں پانی کی مزید پیمائش ممکن نہیں رہی ہے۔

حکام کے مطابق جھیل کی سطح میں اضافے کا رحجان گزشتہ دنوں کے برعکس قدرے کم ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس کی وجہ سے جھیل کا اپ سٹریم میں جگہ ملنے کی وجہ سے پھیلاؤ ہے۔

امدادی پیکج کی یقین دہانی پر احتجاج ختم

حکام کے مطابق جھیل کے بالائی علاقوں میں جھیل کے پھیلاؤ کی وجہ سے پھسو میں ایک معلق پل زیر آب آگیا ہے۔ یہ پل اپنی خوبصورتی کی وجہ سے سیاحوں میں بہت مقبول تھا۔ اس طرح علاقے میں اب تر زیر آب آنے والے معلق پلوں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔

اتوار کو مصنوعی جھیل کے پھیلاؤ کی وجہ سے جھیل کے بالائی علاقے تحصیل گوجال کے دو دیہات ششکٹ اور گلمت کے مزید دس مکان زیر آب آ گئے ۔ ان دونوں دیہات میں زیر آب آنے والے مکانوں کی تعداد ایک سو چھیالیس ہو گئی ہے۔

اس سے پہلے سنیچر کو حکومت کی جانب سے ہنزہ جھیل متاثرین کو اعلان کردہ وقت سے پہلے امدادی پیکج فراہم کرنے کی یقین دہانی کے بعد متاثرین نے جمعہ سے جاری احتجاجی مظاہرہ ختم کر دیا تھا۔

اسی بارے میں