سوئس مقدمات:وفاقی وزیر طلب

سپریم کورٹ میں منگل کے روز این آر او کے بارے میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے ضمن میں وزیر قانون کو عدالت میں طلب کیا گیا ہے۔

صدر آصف علی زرداری(فائل فوٹو)

سپریم کورٹ نے سولہ دسمبر سن دو ہزار نو کو قومی مصالحتی آرڈیننس یا این آر او کے بارے میں فیصلے دیا تھا۔ فیصلے میں صدر پاکستان آصف علی زرداری کے خلاف سوئس مقدمات پر دوبارہ کارروائی شروع کرنے کے لیے سوئس حکام کو درخواست دینے کے لیے کہا گیا تھا۔

وفاقی وزیر قانون بابر اعوان اس بارے میں عدالت کے سامنے حکومت کا موقف پیش کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بابر اعوان عدالت کو این آر آو کے خلاف فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کے بارے میں بھی بتائیں گے۔

نظر ثانی کی درخواست میں حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ عدالت نے این آر او کے خلاف فیصلے میں ان امور پر بھی احکامات جاری کیے ہیں جن کے بارے میں درخواستگزاروں نے استدعا نہیں کی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر عدالت سے کہیں گے کہ صدر کو آئین کے تحت استثنیٰ حاصل ہے۔ پیر کی رات وزارت قانون میں ایک اہم اجلاس بھی ہوا جس میں بالخصوص سوٹزرلینڈ کے اٹارنی جنرل کے بیان پر بھی غور کیا گیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف جو مقدمات ختم کر دیے گئے تھے اب شروع نہیں ہو سکتے۔

عدالت نے وفاقی وزیر کو سابق سیکرٹری قانون جسٹس (ر) عاقل مرزا کے اس بیان کے بعد طلب کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سوئس مقدمات ختم ہو چکے ہیں لہذا ان کے بارے میں خط و کتابت کا جواز نہیں ہے۔

صدر کو آئین کے تحت حاصل استثنیٰٰ کے بارے میں آئینی ماہرین کتی رائے بٹی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر کو آرٹیکل دو سو اڑتالیس کے تحت استثنیٰ حاصل ہے جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ جب این آر او کے تحت ان کے خلاف مقدمات خ،م کیے گئے تھے اس وقت انہیں استثنیٰ حاصل نہیں تھا۔

صدر زرداری اور ان کی اہلیہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے خلاف یہ مقدمات پندرہ سال پہلے درج کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں