سپریم کورٹ میں اہم مقدمات کی سماعت

سپریم کورٹ آف پاکستان میں پیر کو اٹھارہویں ترمیم اور قومی مصالتحی آرڈیننس یا این آر او جیسے معاملات پر دخواستوں کی سماعت شروع ہو رہی ہے اوراس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کا سترہ رکنی بنچ اٹھارہویں ترمیم کی بعض شقوں کے خلاف درخواستوں اور این آر او کے بارے میں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواستوں کی سماعت کرے گا۔اس موقع پر عدالت کے اندر اور باہر غیر معمولی حفاظتی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔

اٹھارہویں ترمیم کے بارے میں درخواستوں میں ججوں کی تقرری کے طریقۂ کار کو چیلنج کیا گیا ہے۔ یہ درخواستین سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن اور راولپنڈی اور لاہور ضلعی بار ایسوسی ایشنوں، ایڈووکیٹ ندیم احمد اور سابق وزیر اعجاز الحق نے دائر کی ہیں۔

درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام عدلیہ کی آزادی پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کمیشن کا قیام آئین کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کر رہا ہے اور موجودہ پارلیمان کو اس کا اختیار نہیں۔ حکومت نے وفاق کے موقف کے دفاع کے لیے وسیم سجاد، ڈاکٹر عبدالباسط اور باچا خان کی خدمات حاصل کی ہیں۔

قومی مصالحتی آرڈیننس کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواستیں وفاق کے علاوہ سابق اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم اور احتساب بیورو کے موجودہ اور سابق حکام نے دائر کی ہیں۔

وفاق نے موقف اختیار کیا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئس مقدمات دوبارہ کھولنے کے بارے میں عدالت کے سامنے کسی درخواست متں ذکر نہیں تھا لیکن اس کے باوجود عدالت نے اپنے فیصلے میں ان کو دوبارہ کھولنے کے احکامات دیے ہیں۔

حکومت کا موقف ہے کہ صدر زرداری کو آئین کے تحت استثنیٰ حاصل ہے اس لیے سوئس مقدمات دوبارہ نہیں کھل سکتے۔وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو فون کر کے یہ بتایا کہ حکومت عدلیہ کا احترام کرتی ہے۔

یاد رہے کہ جسٹس ناصرالمک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے این آر او کے بارے میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے ضمن میں درخواستوں پر وزیر قانون بابر اعوان کو منگل کے روز عدالت میں طلب کیا ہے۔

وزیر اعظم گیلانی نے مزید کہا کہ سوئس مقدمات کے بارے میں آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کیا جائے گا۔

پاکستان میں سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سابق صدر اور آئینی امور کے ماہر حامد خان نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئےکہا کہ پاکستان میں پہلے بھی آئینی ترامیم کے خلاف درخواستیں دائر ہوتی رہی ہیں اور ’ہندوستان میں تو ایک تاریخ ہے اس طرح کی درخواستوں کو سپریم کورٹ کے سامنے چیلنج کرنے کی۔‘

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہندوستان میں سپریم کورٹ نے ترامیم کو مسترد بھی کیا ہے لیکن وہاں پارلیمان اور عدلیہ میں کوئی تصادم نہیں ہوا۔

حامد خان نے کہا کہ بنگلہ دیش میں بھی انیس سو نواسی میں سپریم کورٹ نے ترمیم مسترد کر دی تھی لیکن وہاں بھی کوئی تصادم والی بات نہیں ہوئی۔

اسی بارے میں