سوات بدر خاندانوں کا کیمپ

مالاکنڈ کیمپ (فائل فوٹو)
Image caption مالاکنڈ میں افغان مہاجرین کے لیے بنائے گئے ایک کیمپ کی فائل فوٹو

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے وادی سوات سے تین دن قبل علاقہ بدر کیے جانے والے شدت پسندوں کے پچیس خاندانوں کے لوگوں کو مالاکنڈ ایجنسی کے ایک پرانے پناہ گزین کیمپ میں رکھا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کیمپ میں عام لوگوں کا داخلہ ممنوع ہے اور گزشتہ روز ایک مقامی صحافی کو بھی کیمپ میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ کیمپ مالاکنڈ ایجنسی میں پلئی روڈ پر ایک دور دراز علاقے میں قائم کیا گیا ہے جہاں آس پاس کوئی بازار یا آبادی نہیں ہے۔ کیمپ اسی جگہ پر ہے جہاں کبھی افغان مہاجرین کا کیمپ ہوتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ کیمپ کے مکینوں کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔

جرگہ کے فیصلے پر علاقہ بدر کیا گیا: کرنل اختر

گزشتہ روز اس کیمپ کا دورہ کرنے کی غرض سے پلئی جانے والے ایک مقامی صحافی گوہر علی گوہر نے بی بی سی کو بتایا کہ جب وہ وہاں پہنچے تو کیمپ کے باہر سکیورٹی چیک پوسٹ پر تعینات اہلکاروں نے انھیں کیمپ میں جانے کی اجازت نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ انھیں اس بات کی وجہ نہیں بتائی گئی کہ انھیں کیمپ میں اندر جانے سے کیوں منع کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انھیں دور سے ٹینٹ میں دو افراد بیٹھے نظر آئے اور ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے کیمپ کو ایک تباہ شدہ جگہ پر تعمیر کیا گیا ہو۔

ان کے مطابق کیمپ کے اردگرد سخت سکیورٹی ہے اور چاردیواری کو کانٹے دار تار بچھا کر ہر طرف سے بند کیا گیا ہے۔

اطلاعات یہ بھی ہیں کہ علاقہ بدر کر کے کیمپ بھیجے جانے والوں سے سکیورٹی فورسز کے ارکان نے موبائل فون لے لیے تھے۔

دریں اثنا سوات میڈیا سنٹر کے ترجمان کرنل اختر نے ایک بار پھر اس بات کی وضاحت کی ہے کہ ان خاندانوں کو سکیورٹی فورسز کے حکم پر نہیں بلکہ ایک مقامی جرگہ کی کارروائی پر علاقہ بدر کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز میڈیا سے کچھ چھپانا نہیں چاہتیں اور وقت آنے پر تمام صحافیوں کو کمیپ کا دورہ کرایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ فوج کی طرف سے کمیپ میں مقیم لوگوں کو انسانی ہمدردی کے ناطے کھانے پینے اور دیگر تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاہم جو تھوڑی بہت مشکلات ہیں وہ بھی آئندہ چند دنوں میں دور کردی جائیں گی۔

خیال رہے کہ تین دن قبل تحصیل کبل کے نیکتی خیل امن جرگہ نے خواتین اور بچوں پر مشتمل ایسے پچیس خاندانوں کو ضلع بدر کردیا تھا جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کے عزیز و رشتہ دار ہیں۔

مقامی جرگہ نے علاقہ بدر کیے جانے سے پہلے عسکریت پسندوں کو مہلت دی تھی کہ وہ خود کو سکیورٹی فورسز کے حوالے کردیں اور کہا جاتا ہے کہ اس دوران دو درجن کے لگا بھگ مبینہ شدت پسندوں نے خود کو حکومت کے حوالے بھی کر دیا تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی حکومت کے کہنے پر کی گئی ہے۔

اسی بارے میں