سوات: بے دخلی کی مذمت واپسی کا مطالبہ

انسانی حقوق کمیشن  کی سربراہ عاصمہ جہانگیر
Image caption ’لوگوں کو اگس طرح ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے‘

انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے سوات سے پچیس خاندانوں کو بے دخل کرنے اور انہیں پرانے پناہ گزین کیمپ میں رکھنے کی مذمت کرتے ہوئے ان افراد کو ان کے علاقے میں واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ کمیشن کو آزادانہ ذرائع سے یہ رپورٹ ملی ہے کہ سوات کے علاقے سے بہت لوگوں کو مبینہ عسکریت پسندوں کے رشتہ دار ہونے کی بنا پر علاقے سے نکال کر کیمپ میں رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے اور اگر کسی پر کوئی شک ہے تو اس کی اس کے علاقے میں بھی نگرانی کی جا سکتی ہے لیکن محض رشتہ دار ہونے پر کسی کو کو اس قسم کی سزا نہیں دی جا سکتی۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ امن کمیٹی یا جرگہ کے کہنے پر لوگوں کو ان کے علاقے سے نکال دیا جائے اور انہیں کمیپ میں رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا ہے ان کی داد رسی اس صورت میں ممکن ہے جب انہیں ان کےعلاقے میں واپس جانے کی اجازت دی جائے، اس لیے انسانی کمیشن کا یہ مطالبہ ہوگا کہ بے دخل کیے جانے والوں کو ان کے گھروں میں واپس جانے کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ علاقے سے بے دخل کیے جانے والے جن افراد کے گھر مسمار کیے گئے ہیں انہیں دوبارہ گھر تعمیر کر کے دیا جائے۔

اسی بارے میں