خواجہ سرا سے شادی: جوڑا گرفتار

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک مقامی عدالت نے خواجہ سرا سے شادی کرنے کی کوشش میں پیر کی رات گرفتار ہونے والے مبینہ دلہا اور خواجہ سرا دلہن کو مزید تفتیش کےلیے پولیس کے حوالے کردیا ہے۔

پولیس
Image caption پولیس کے مطابق پینتالیس خواجہ سراؤں اور دیگر مہمانوں کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے

عدالت نے اس شادی میں شرکت پر گرفتار پینتالیس خواجہ سراؤں اور دیگر مہمانوں کو بھی جیل بھیجنے کا حکم جاری کیا ہے۔

تھانہ فقیر آباد کے ایک اہلکار اختر علی خٹک نے بی بی سی کو بتایا کہ گرفتار ہونے والے خواجہ سراء دلہن کاشف عرف رانی سنگیتا اور مبینہ دلہا ملک اقبال کو منگل کی صبح جوڈیشل مجسٹیریٹ شوکت اللہ شاہ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اورکزئی کے مطابق انہوں نے کہا کہ عدالت نے مبینہ دلہن اور دولہے کو ایک دن کے مزید تفتیش کےلیے پولیس کے حوالے کردیا جبکہ شادی میں شرکت کرنے کے الزام میں گرفتار پینتالیس خواجہ سراؤں اور مہمانوں کو تفتیش مکمل ہونے پر سنٹرل جیل پشاور منتقل کردیا گیا۔

پولیس اہلکار نے مزید بتایا کہ پیر کی رات فقیر آباد پولیس نے مخبر کی اطلاع پر پشاور کے علاقے دلہ زاک روڈ پر ملک پلازہ سے شادی کی ایک تقریب کے دوران ملک اقبال اور کاشف عرف رانی سنگیتا نامی ایک خواجہ سراء کو حراست میں لے لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملزمان آپس میں شادی کےلیے اکھٹے ہوئے تھے اور وہاں موسیقی کی تقریب بھی جاری تھی جس میں خواجہ سراؤں کے علاوہ عام لوگ بھی مدعو تھے۔

پولیس اہلکار کے مطابق تقریب میں وہاں موجود پینتالیس خواجہ سراؤں اور دیگر مہمانوں کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے دونوں ملزمان کے خلاف دفعہ 377 ، 511 ، 249 ، 3/4 ڈانس ایکٹ ، 13 اے او اور 148 /149 کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔

اسی بارے میں