’جعلی ڈگری کا تعین کرنے کے مجاز نہیں‘

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ منتخب نمائندوں کی جعلی ڈگریوں کا تعین کرنے کی وہ مجاز نہیں اور اس کا فیصلہ کسی عدالت میں ہونے کے بعد سپیکر کی جانب سے ریفرنس موصول ہونے پر ہی وہ اس نمائندے کی رکنیت ختم کر سکتا ہے۔

پاکستان الیکشن کمیشن
Image caption ریٹرننگ آفیسر کے لیے تین دن میں ڈگری کی تصدیق کروانا بہت مشکل کام ہے

یہ بات انتحابی کمیشن کے سیکریٹری اشفاق احمد خان نے اسلام آباد میں صحافیوں سے ایک بریفنگ کے دوران کہی۔ اس سے قبل وہ اس اہم موضوع پر قومی اسمبلی کی تعلیم سے متعلق قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بھی اس کے متعلق وضاحت کر چکے ہیں۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ انتخابی عمل کے آغاز کے بعد امیدواروں کے کاغذات جانچنے کے لیے ریٹرننگ افسر کے پاس دو یا تین دن ہوتے ہیں جس میں وہ کسی تعلیمی بورڈ یا ادارے سے ڈگری کی تصدیق نہیں کروا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی کی ڈگری کے جعلی یا اصلی ہونے کی تصدیق نہیں کرسکتے ہیں۔ ’اس کے تعین کے لیے عدالتی فیصلہ ضروری ہے۔ کسی اور کو اس فیصلے کا اختیار نہیں۔‘

اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار ہارون رشید کا کہنا ہے کہ انتخابی کمیشن نے یہ وضاحت گزشتہ دنوں اس بحث کے دوران دی جس میں اسے اراکین اسمبلی کی جعلی ڈگریوں کی جانچ پڑتال نہ کرسکنے اور ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ کئی ماہ سے جاری یہ بحث عدالت کی جانب سے کئی اراکین کی رکنیت جعلی ڈگریاں ثابت ہونے کے بعد ختم کرنے کے حکم سے شروع ہوئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں اٹھارویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد ایک فقرے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے مطابق کوئی بھی رکن صادق، امین اور دیانتدار تصور کیا جائے گا جب تک اس کے خلاف کوئی عدالتی فیصلہ نہ ہو۔

’نئی ترمیم کے تحت عدالتی فیصلے کے بعد ہی انہیں نااہل قرار دے کر ان کی ایوان کی رکنیت ختم کی جاسکتی ہے۔’ان کا کہنا تھا قانونی طریقہ یہ ہے کہ شکایت کندہ شخص یہ عدالتی فیصلہ پھر سپیکر یا چیئرمین سینٹ کے پاس لے کر جائے گا اور وہ جب یہ ریفرنس انتخابی کمیشن کے سامنے لائیں گے تو پھر وہ اس رکن کی اہلیت ختم کرسکیں گے۔

اس کے بعد بھی چیف الیکشن کمیشنر اس پر فیصلہ نہیں کرے گا بلکہ وہ اسے کمیشن کے سامنے رکھے گا جو اس کا فیصلہ کرے گا۔ ’جب تک اس طرح کا کوئی ریفرنس نہیں آتا ہم کچھ نہیں کرسکتے ہیں۔ یہ ہی قانونی پوزیشن ہے۔‘

سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے سال دو ہزار دو اور آٹھ کے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے امیدواروں کے گریجویٹ ہونے کی شرط رکھی تھی۔ لیکن اپریل دو ہزار آٹھ میں سپریم کورٹ نے اس شرط کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ لیکن بعد میں انتخابی کمیشن کے سابق سیکرٹری کنور دلشاد کے ایک اخباری بیان کے مطابق موجودہ پارلیمان میں تقریبا ڈیڑھ سو اراکین کی ڈگریاں جعلی ہو سکتی ہیں۔

لیکن آج سیکرٹری اشفاق احمد خان کی جانب سے وضاحت سے کم از کم انتخابی کمیشن نے اپنے آپ کو اس ذمہ داری سے بری الزمہ قرار دینے کی کوشش کی ہے۔

اسی بارے میں