ٹی وی میزبان کے خلاف مقدمے کی درخواست

درخواست میں حامد میر، عثمان پنجابی اور ایشین ٹائیگرز کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے کہا گیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق اہلکار خالد خواجہ کے قتل کی رپورٹ درج کرنے پر غور کر رہے ہیں اور اس بارے میں فیصلہ بدھ کی رات یا جمعرات تک متوقع ہے۔

خالد خواجہ کے صاحبزادے اسامہ خالد نے منگل کی رات تھانہ شالیمار میں اپنے وکیل کے ہمراہ ایف آئی آر درج کرانے کے لیے تحریری درخواست دی تھی۔ درخواست میں معروف صحافی اور ٹی وی میزبان حامد میر، عثمان پنجابی اور اغواء کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیم ایشین ٹائیگرز کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

مارگلہ سرکل کے ڈی ایس پی نعیم اقبال نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس بات پر غور ہو رہا ہے کہ اس معاملے کا تعلق ان کی حدود سے ہے یا نہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس درخواست پر مقدمہ درج کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ آج رات یا کل تک کر دیا جائے گا۔

خالد خواجہ کو ایشن ٹائیگرز نامی ایک غیرمعروف تنظیم نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں اغوا کرنے کے بعد ہلاک کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دستاویزی فلم بنانے کے لیے قبائلی علاقے گئے تھے۔

اوسامہ نے درخواست دینے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے انہیں انصاف ملے گا۔ ’میرے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے۔ جب تک آڈیو ٹیپ نہیں آئی تھی وہ بھی ابہام کا شکار تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ صورتحال واضح ہونا شروع ہوگئی۔‘

ان کے وکیل ایاز کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی درخواست میں ہر وہ حوالہ دیا ہے جس کا اس قتل پر اثر ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ معلومات آڈیو سے اور کچھ مدد وزیرستان کے لوگوں سے ملی ہے۔ ان کا موقف تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اعلی عدالت سے بھی انصاف کے لیے رجوع کرسکتے ہیں۔

ایاز کا کہنا تھا کہ انہوں نے درخواست میں جو الزامات عائد کیے ہیں ان کے لیے ثبوت مناسب وقت پر مہیا کریں گے۔ ’ان میں بعض باتیں قومی سلامتی سے متعلق ہیں جنہیں اسی وقت ظاہر کیا جائے گا۔‘

جیو ٹی وی کے میزبان حامد میر نے اس معاملے پر یہ کہتے ہوئے تبصرے سے انکار کیا ہے کہ انہیں ان کے وکیل نے ایسا کرنے سے منع کیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے درخواست پر ان کا لیگل ونگ غور کر رہا ہے اور جمعرات کی صبح تک اس پر کوئی فیصلہ کر لیا جائے گا۔

اسی بارے میں