قراقرم ہائی وے بند، تجارت متاثر

ہنزہ میں مٹی کا تودہ گرنے سے عطا آباد کے علاقے میں بننے والی جھیل کے باعث پاکستان کا چین سے واحد زمینی راستہ شاہراہ قراقرم ہائی وے بند ہو گئی ہے اوراس وجہ سے پاکستان کو تجارت کے ذریعے ہونے والی آمدنی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

سوست ڈرائی پورٹ کے ایک اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ شاہراۃ قراقرم بند ہونے کی وجہ سے مئی کے مہینے میں پچاس فیصد سے زائد نقصان ہوا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پچھلے سال مئی کے مہینے میں اٹھائیس کمرشل کنٹینر چین سے پاکستان آئے تھے لیکن اس سال مئی کے مہینے میں ابھی تک صرف دس کمرشل کنٹینر آئے ہیں۔

ِاس کے علاوہ اُن کا کہنا تھا کہ پچھلے سال مئی کے مہینے میں لگ بھگ تین کروڑ چوالیس لاکھ روپے کسٹم ڈیوٹی کی مد میں آمدنی ہوئی تھی جبکہ اس سال ابھی تک مئی کے مہینے میں محض سڑسٹھ لاکھ روپے آمدنی ہوئی ہے۔

اسی طرح سیلز ٹیکس کی مد میں پچھلے سال مئی میں ننانوے ہزار ساٹھ لاکھ روپوں سے زائد آمدنی ہوئی جبکہ رواں سال مئی کے مہینے میں صرف تینتالیس لاکھ ستاسی ہزار روپے آمدنی ہوئی ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ اسی طرح انکم ٹیکس کی مد میں پچھلے سال اٹھائیس لاکھ اکیس ہزار کی آمدنی ہوئی لیکن اس سال صرف تیرہ لاکھ بانوے ہزار کی آمدنی ہوئی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس کمی کی سب سے بڑی وجہ جھیل کی وجہ سے پاکستان اور چین کے درمیان واحد زمینی راستہ قراقرم ہائی وے کا بند ہونا ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر برائے مواصلات ارباب جہانگیر نے دس دن قبل عطا آباد جھیل کے دورے پر بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ شاہراہ قراقرم کا بائیس کلومیٹر کا حصہ زیر آب آ چکا ہے اور یہ ممکن نہیں کہ اس کو دوبارہ تعمیر کیا جاسکے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس شاہراہ کے لیے متبادل جگہ کا تعین کرنے کے لیے سروے شروع کردیا گیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ جھیل سے پانی کی نکاسی کے بعد تین ماہ میں اس شاہراہ کو عارضی طور پر کھول دیا جائے گیا جب تک متبادل راستہ تیار نہیں ہوتا۔

تاہم گلگت بلتستان حکومت اور وفاقی حکومت کو ابھی یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ آیا نکاسی کے عمل سے اس جھیل کا پورا پانی ختم ہو جائے گا یا یہ جھیل کم لمبائی اور گھرائی کے ساتھ ہنزہ کا ایک مستقل حصہ بن جائے گی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ تین چار ماہ اس شاہراہ کے بند رہنے سے حکومت کو تجارت کی مد میں مزید نقصان اٹھانے پڑیں گے۔

اسی بارے میں