پشاور میں طلبا کے فن پاروں کی نمائش

نمائش
Image caption فوٹوگرافی کا ایک نمونہ

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور میں یونیورسٹی کے طلبا کی طرف سے فنی سرگرمیوں پر مبنی نمائش کا اہتمام کیا۔

اس دو روزہ نمائش کا اہتمام فائن آرٹس اینڈ ڈیزائن ڈیپارٹمنٹ پشاور یونیورسٹی کی طرف سے کیا گیا ہے جس میں فائنل ائر کے طلبا کی طرف سے چار سال کے دوران کیا گیا تخلیقی کام اور مختلف فن پاروں کی نمائش کی گئی۔ نمائش کا انعقاد پشاور یونیورسٹی کے پیوٹا ہال میں کیا گیا ہے جہاں طلبا کی جانب سے بنائے گئے چھوٹے چھوٹے سٹالز میں ان کے فن کے نمونے نہایت ترتیب اور خوبصورتی سے سجائے گئے۔ اس نمائش کو ’تھیسیز ایگزی بیشن دو ہزار دس‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔

Image caption ٹیکسٹائل ڈیزائننگ

نمائش کو دو شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس کے لیے دو بڑے بڑے ہالز بنائے گئے۔ ایک ہال میں ٹیکسٹائل ڈیزائننگ کے فن پارے رکھے گئے جب کہ دوسرا ہال کمیونیکشن ڈیزائننگ کے پوسٹرز اور پلے کارڈز سے سجایا گیا ہے۔

فائن آرٹس اینڈ ڈیزائن ڈیپارٹمینٹ کی چئر پرسن طیبہ عزیز نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ نمائش ہر سال طلبہ کی سٹڈیز مکمل ہونے پر منعقد کی جاتی ہے۔ تاہم گزشتہ دو سالوں سے پشاور میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث اس سرگرمی کا انعقاد ملتوی کیا جاتا رہا۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختون خوا میں بد قسمتی سے آرٹ سکولز اور کالجز کا پہلے ہی سے شدید فقدان ہے اور ایسے حالات میں فنی نمائشوں اور دیگر مثبت سرگرمیوں کی ضرورت اور بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اس قسم کے نمائشوں سے طلبہ میں آگے بڑھنے اور کام کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

نمائش میں رکھے گئے فن کے تمام نمونے طلبا کی طرف سے ایک خاص مقصد یا تھیم کے تحت بنائے یا ڈیزائن کئے جاتے ہیں۔

ڈیپارٹمینٹ کے ایک لیکچرار محمد شیر علی خان کا کہنا ہے کہ ٹیکسٹائل ڈیزائننگ کے شعبہ میں ہونے والا زیادہ تر کام طالبات کی طرف سے کیا گیا ہے اور اس میں تمام کام گھریلو سجاوٹ کا ہے۔ ان کے مطابق اس میں بیشتر وہ چیزیں ڈیزائن کی گئی ہے جنھیں عام طور پر گھریلو استعمال میں لایا جاتا ہے، مثلاً بیڈ شیٹ، تکیے اور کپڑے پر طرح طرح کے مختلف اور خوبصورت ڈیزئن بنانا وغیرہ شامل ہے۔

ڈیپارٹمنٹ میں اس شعبے کی منتظم افشین زمان کا کہنا ہے کہ ٹیکسٹائل ڈیزائننگ ایک تخلیقی کام ہے جس میں طلبہ کو کسی بھی پروجیکٹ کو پایہ تکیمل تک پہنچانے کےلیے چار مراحل سے گزرنا پڑتا ہے جب کہ انھیں رنگوں کے استعمال میں بھی مہارت حاصل ہونی چاہیے۔

Image caption مختلف مصنوعات کا تشہیری مواد

کمیونیکشن ڈیزائننگ میں ہونے والا کام پوسٹرز، پلے کارڈز اور بروشرز پر کیا گیا ہے اور ان میں زیادہ تر پاکستان کے سماجی مسائل اور ان سے آگاہی کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ان میں بعض پوسٹزز پر سگریٹ نوشی، چرس پینے کے نقصانات، ماحولیات سے آگاہی اور معاشرے کے دیگر مسائل کی خوبصورت اور موثر انداز میں عکاسی کی گئی ہے۔

نمائش دیکھنے کےلیے بڑی تعداد میں طلبا اور عام لوگ نظرآئے جن میں اکثریت خواتین کی تھی۔

اسی بارے میں