طارق کھوسہ تفتیشی افسر مقرر

سپریم کورٹ نے وفاقی سیکریٹری اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف ائی اے) کے سابق ڈائریکٹر جنرل طارق کھوسہ کو بینک آف پنجاب سے نو ارب روپے کے قرضے کے مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کا سربراہ افسر مقرر کیا ہے۔

عدالت نے نیب کے چیئرمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ طارق کھوسہ کو یہ ذمہ داریاں سونپنے سے متعلق حکم جاری کرنے کے لیے ہدایت سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو بھجوائیں اور مجاز اتھارٹی اُن کی بینک آف پنجاب فراڈ کیس کی تفتیشی ٹیم کے سربراہ کی حیثیت سے نوٹیفکیشن جاری کرے۔

عدالت نے طارق کھوسہ کو حکم دیا کہ وہ صرف بینک آف پنجاب فراڈ کیس کی تحقیقات نہ کریں بلکہ اس سے منسلک دوسرے معاملات کی بھی چھان بین کریں۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا کہ طارق کھوسہ ان مقدمات کی تفتیش کے ساتھ ساتھ سیکریٹری نارکوٹیکس کے عہدے پر بھی بدستور کام کرتے رہیں گے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعرات کو حارث سٹیل ملز کے مقدمے کی سماعت شروع کی تو نیب کے ایڈشنل پراسکیوٹر جنرل راجہ عامر نے عدالت کو بتایا کہ نیب کے حکام حارث سٹیل ملز کے ڈائریکٹر شیخ افضل کے اُس بیان کی تحقیقات کر رہے ہیں جس میں انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے مقدمہ ختم کروانے کے لیے اُس وقت کے اُن کے وکیل اور موجودہ وزیر قانون بابر اعوان کو چار کروڑ روپے کے علاوہ سپریم کورٹ کے سنیئر قانون دان شریف الدین پیزادہ کو ڈھائی کروڑ روپے، سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کو دو کروڑ اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اور سنئیر قانون دان وسیم سجاد کو ایک کروڑ بیس لاکھ روپے دیے تھے۔

اس کے علاوہ انھوں نے نیب کے موجودہ پراسکیوٹر جنرل عرفان قادر کو بھی مقدمہ ختم کروانے کے لیے پیسے دینے کا الزام لگایا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جہاں پر وزیر قانون اور نیب کے پراسکیوٹر جنرل پر پیسے لینے کا الزام ہو تو وہاں پر نیب کے اہلکار کس طرح اس مقدمے کی تفتیش احسن طریقے سے کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ نیب کا ادارہ وِزارت قانون کے ماتحت ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اب تو اخبارات میں سیکریٹری خزانہ سلمان صدیق سمیت دیگر افراد کے نام بھی آرہے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اب یہ معاملہ نو ارب روپے سے زائد کا لگتا ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت جب بھی کسی شخص کو سزا دیتی ہے تو اُس کو بڑے عہدے پر لگایا دیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اب تو لوگ ہمیں سفارش کرواتے ہیں کہ اُن کے خلاف کوئی مقدمہ ڈھونڈیں تاکہ اُن کو بھی بڑے عہدے پر تعینات کیا جاسکے۔

عدالت کی طلبی پر چیئرمین نیب نوید احسن اور طارق کھوسہ عدالت میں پیش ہوئے۔ طارق کھوسہ نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ یہ احکامات جاری کریں کہ حکومتی اہلکار یا کوئی حکومتی ادارہ اس مقدمے کی تفتیش میں اثرانداز نہیں ہوں گے۔ عدالت نے طارق کھوسہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنی پسند کا کوئی بھی افسر اس تحققیاتی ٹیم میں شامل کرسکتے ہیں۔

افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ اہم مقدمہ ہے جس کی تفتیش شفاف طریقے سے ہونا ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کو ہمیش خان کو وطن واپس لانے کے لیے امریکی حکام کو خط بھی نہیں لکھ رہی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ہمیش خان سے ابھی صرف انکوائری ہو رہی ہے جبکہ ابھی تک اُنھیں اس مقدمے کی تفتیش میں شامل نہیں کیا گیا۔

نیب کے ایک اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ہمیش خان نے اپنے پُرانے کپڑے دھونے کے لیے گھر بھجوائے تو اُس پر لکھا ہوا تھا کہ اُس کی تمام ای میلز اور خطوط ضائع کردیے جائیں۔

سماعت کے دوران ایک درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ سابق ملٹری ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دور میں سابق وزیر مملکت رئیس منیر نے درخواست گُزاروں کے نام پر بینک آف پنجاب سے بارہ کروڑ روپے کا قرضہ لیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اُن کے نام اراضی پر جعل سازی سے قرضہ حاصل کیا گیا۔

عدالت نے بینک آف پنجاب فراڈکیس کی سماعت گیارہ جون تک ملتوی کردی۔

اسی بارے میں