ہنزہ تک شاہراہِ قراقرم بند

گلگت بلتستان حکومت نے عطا آباد جھیل سے ممکنہ سیلابی ریلے کے خطرے کے پیش نظر شاہراہ قراقرم کو گلگت سے ہنزہ نگر تک تاحکم ثانی بند کردیا ہے اور ہنزہ نگر میں ہائی الرٹ ہے۔

پانی کب سپل وے کے اوپر سے گزرے گا

دوسری طرف توقع کی جا رہی ہے کہ ہنزہ جھیل کا پانی جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب سپل وے سے بلند ہو جائے گا۔

ڈپٹی کمشنر ہنزہ نگر ظفر وقار تاج نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ جمعرات کی شام چھ بجے سےگلگت سے ہنزہ کے علاقے کریم آباد تک شاہراہ قراقرم معمول کی ٹریفک کے لیے تاحکم ثانی بند کردی گئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ عطا آباد جھیل کی اس وقت گہرائی تین سو ساٹھ فٹ ہے اور جھیل میں پانی کی سطح میں ایک انچ فی گھنٹہ اضافہ ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جھیل میں پانی کی سطح اور سپل وے میں تین فٹ نو انچ کا فرق رہ گیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب کو پانی کی سطح سپل وے کی اونچائی تک پہنچنے کی توقع ہے۔

ظفر وقار کا کہنا تھا کہ علی آباد اور دیگر علاقوں میں مذہبی مقامات اور گاڑیوں پر نصب سپیکرز کے ذریعے لوگوں کو محتاط رہنے اور نشیبی علاقوں میں جانے سے ممانعت کے اعلانات کیے جا رہے ہیں۔

اس سے قبل ہنزہ نگر کی انتظامیہ نے ممکنہ سیلابی ریلے کے پیش نظر مزید گاؤں خالی کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ گنش گاؤں کے وہ گھرانے جو نشیبی علاقے کے نزدیک ہیں ان کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر ہنزہ نگر ضمیر عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ شاہراہ قراقرم پر واقع گنش گاؤں کے پینتیس خاندانوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ گریلت سے دس اور علی آباد سے ایک خاندان کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ایک ہفتے قبل گنش گاؤں کے رہائشیوں نے شاہراہ قراقرم کو بلاک کر کے احتجاج کیا تھا کہ سیلابی ریلے کی صورت میں سب سے پہلے جو گاؤں متاثر ہو گا وہ گنش گاؤں ہی ہو گا۔

تاہم اس وقت ہنزہ نگر کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ گنش کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور نیسپاک نے جو سروے کیا ہے اس کے مطابق گنش کو خطرہ نہیں ہے۔

ضمیر عباس کا کہنا تھا کہ پورا گنش خالی نہیں کروایا جا رہا بلکہ صرف پینتیس خاندانوں کو منتقل کرایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیسپاک سے دوبارہ سروے کرنے کا کہا گیا تھا اور ان کی تازہ رپورٹ کے مطابق گنش کو اب خطرہ لاحق ہے۔

دوسری جانب تیز ہواؤں کے باعث ہیلی کاپٹر سروس صبح ہی بند کر دی گئی۔

اسی بارے میں