مہمند ایجنسی: دو سرکاری سکول تباہ

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں سرکاری سکولوں اور تنصیبات پر شدت پسندوں کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے اورایک تازہ واقعے میں دو سرکاری سکولوں اور زراعت کے دفتر کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا گیا ہے۔

فائل فوٹو
Image caption شدت پسندوں نے چند کمروں پر مشتمل زراعت کے ایک دفتر کو بھی بارودی مواد سے تباہ کردیا ہے

پولیٹکل انتظامیہ مہمند کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب مسلح افراد نےتحصیل صافی کے دُورافتادہ سرحدی علاقے مسعود میں لڑکیوں اور لڑکوں کے دو پرائمری سکول کو بم دھماکوں میں نشانہ بنایا۔‘

انہوں نے کہا کہ دھماکوں سے دونوں پرائمری سکول کی عمارتیں تباہ ہوگئیں ہیں۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ ان دونوں سکولوں پر پہلے بھی حملے ہوچکے تھے لیکن اِس بار کوئی بھی کمرہ استمعال کے قابل نہیں بچا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’مسعود ہی کے علاقے میں نامعلوم شدت پسندوں نے چند کمروں پر مشتمل زراعت کے ایک دفتر کو بھی بارودی مواد سے تباہ کردیا ہے۔‘

خیال رہے کہ مسعود مہمند ایجنسی کا ایک دور افتادہ پہاڑی علاقہ ہے جو پاک افغان سرحد کے قریب واقع ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق مہمند ایجنسی میں پچھلے چند ماہ سے سرکاری سکولوں اور دیگر تنصیبات پر حملوں میں کمی آئی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس قسم کے واقعات میں اب تک چھیالیس کے قریب لڑکوں اور لڑکیوں کے سکولوں کو تباہ کیا جاچکا ہے جبکہ بیس کے قریب بنیادی صحت کے مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تباہ ہونے والے سکولوں میں تعلیمی سلسلہ منقطع ہے جس کی وجہ سے ہزاروں طلباء تعلیم کے حصول سے محروم ہوچکے ہیں۔ اُن کے مطابق ابھی تک کسی بھی سکول کو دوبارہ تعمیر نہیں کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ یہ حملے ایسے وقت ہو رہے ہیں جب گزشتہ دو تین مہینوں سے مہمند ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں کمی آئی ہے اور ابھی تک اس بات کا واضح طور پراعلان نہیں کیا گیا ہے کہ ایجنسی کے کن کن علاقوں سے عسکریت پسندوں کو نکالا گیا ہے۔

اسی بارے میں