برطانوی مرکزی وزیر کا استعفیٰ

ڈیوڈ لاز کا استعفٰی، تین ہفتے پہلے بننے والی کنزرویٹو کی مخلوط حکومت پر ایک ضرب تصور کیا جارہا ہے برطانیہ کی نئی مخلوط حکومت کے اہم رہنما اور کابینہ کے لبرل ڈیموکریٹ رکن ڈیوڈ لاز نے وزیرِخزانہ کی حیثیت سے استعفٰی دے دیا۔

انہوں نے یہ استعفٰی اِس انکشاف کے بعد دیا کہ انہوں نے گزشتہ دورِ حکومت میں، رکن پارلیمنٹ کے حیثیت سے اخراجات کی مد میں قومی خزانے سے چالیس ہزار پاؤنڈ لیے تھے۔

استعفٰی دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اخبار ٹیلی گراف میں اپنے بارے میں سامنے آنے والے انکشاف کے بعد مالیاتی خسارہ کم کرنے کے اہم کام کو جاری نہیں رکھ سکتے۔

اس سے پہلے انہوں نے اپنے اِس عمل پر معافی مانگی تھی اور اعلان کیا تھا کہ وہ چالیس ہزار پاؤنڈ واپس کردیں گے۔

ڈیوڈ لاز کا کہنا تھا کہ وہ جیمز لنڈی سے اپنے تعلقات کو پرائیویٹ رکھنا چاہتے تھے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اس بات سے آنکھیں نہیں پھیر سکتے کہ جو کچھ انہوں نے کیا وہ کسی طور درست نہیں تھا۔

لبرل ڈیموکریٹس سے تعلق رکھنے والے ڈیوڈ لاز کا استعفٰی، تین ہفتے پہلے بننے والی کنزرویٹو کی مخلوط حکومت پر ایک ضرب تصور کیا جارہا ہے۔ مخلوط حکومت کی تشکیل کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں انہوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا، اور حکومت بننے کے بعد انہیں کابینہ میں وزارتِ خزانہ کا قلمدان سونپا گیا تھا۔

ڈیوڈ لاز کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنا استعفٰی بہت سوچ بچار کے بعد دیا ہے۔ ان کے بقول انہوں نے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اور نائب وزیراعظم نِک کلیگ کو اپنے فیصلے سے آگاہ کردیا تھا اور یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے۔

درایں اثناء کابینہ کے ایک اور لبرل ڈیموکریٹ رکن ڈینی الیگزینڈر کو ڈیوڈ لاز کی جگہ وزیر خزانہ مقرر کیا گیا ہے۔ وہ اس سے پہلے سکاٹ لینڈ کے امور کے وزیر کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے تھے۔

اسی بارے میں