سکیورٹی صورتحال پر اٹھتے سوالات

’۔۔۔ حالات کا یہ پہلو بہرطور تشویشناک اور فکر انگیز ہے کہ ہماری خفیہ ایجنسیوں اور دہشتگردوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اداروں کو اس بات کا علم تو ہو جاتا ہے کہ کس عمارت، کس ادارے اور کونسی غیرمسلم اقلیتی عبادت گاہ پر حملہ ہونے کا امکان ہے لیکن ان تمام تر اطلاعات کے باوجود دہشت گردوں کو اپنا وار کرنے سے پہلے ہی گرفت میں لانے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکے ہیں‘۔

عوام میں پائے جانے والے اس تاثر کو تحریری شکل میں روزنامہ جنگ نے سنیچر کے اداریے میں پیش کیا ہے۔ اخبار کا لاہور میں احمدیوں کے مراکز پر ہونے دو حملوں کی بابت مزید کہنا ہے کہ ایسے حالات میں ان اداروں کی مکمل تنظیم نو وقت کی اشد ضرورت ہے۔

پاکستانی اخبارات پر جمعہ کے لاہور حملے چھائے ہوئے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں اخبارات نے ان حملوں میں ہوئے جانی نقصان کو بینر ہیڈلائنز میں جگہ دی ہے اور حملہ آوروں پر قابو پانے والے پولیس اہلکاروں اور متاثرین کی مدد میں مصرف امدادی کارکنوں کی تصاویر بھی بڑی تعداد میں شائع کی گئی ہیں۔

انگریزی روزنامہ ڈان نے ’لاہور میں دہشت’ نام سے اداریے میں سکیورٹی کے ایک اور پہلو پر نظر ڈالی ہے۔ اخبار کے مطابق لاہور میں سکیورٹی کی ابتر صورتحال کئی برسوں سے چلی آ رہی ہے۔ اخبار پوچھتا ہے کہ کیسے حملہ آور باآسانی عبادت گاہوں میں داخل ہونے میں کامیاب رہے، خصوصا ایسے مقامات پر جہاں حملے کا خدشہ پہلے سے تھا؟ اخبار کا کہنا ہے کہ شہر میں اسلام کے بغیر دیگر مذاہب کی مذمت والے بینرز دیکھے گئے تھے۔

اداریے میں پولیس سے قبل ٹی وی عملے کے جائے وقوع پر پہنچنے کو بھی قابل تشویش قرار دیا گیا ہے۔ ڈان نے ایسے حملوں میں گرفتار ہونے والے شدت پسندوں کو سزاؤں میں تاخیر پر بھی افسوس کیا ہے۔ اس کا لکھنا ہے کہ اکثر اس کی وجہ ثبوت کا احتیاط سے حاصل نہ کرنا ہے۔

ایک اور انگریزی اخبار دی نیوز کے مطابق بھی پنجاب پولیس کی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت نہ ہونے کے برابر تھی۔ ہجوم کو قابو میں رکھنا اس کے بس سے باہر تھا۔

اخبار کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کو صوبے میں شدت پسندی کی موجودگی کی حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا۔ اس کا کہنا ہے کہ لاہور حملوں میں پنجاب خصوصا جنوبی حصوں میں موجود شدت پسند تنظیمیں ملوث ہوسکتی ہیں۔ اخبار نے ان تنظیموں کا کچھ بندوبست کرنے کی ضرورت ہے۔

اردو اخبار ایکسپریس نے اپنے اداریے ’لاہور میں دہشت گردی کے واقعات‘ میں پنجاب حکومت سے پنجابی طالبان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ لاہور میں تازہ حملوں کے بعد اب یہ مطالبہ زور پکڑتا جائے گا۔

اسی بارے میں