پولیس فائرنگ سے ایک شخص ہلاک

کوئٹہ میں احتجاج
Image caption بلوچستان نیشنل پارٹی نے نصیراحمد لانگو کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں پولیس کی فائرنگ اور شیلنگ سے ایک شخص ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس نے مظاہرین پر اس وقت فائرنگ کی جب بلوچستان نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے ٹارگٹ کلنگ کے الزام میں گرفتار ہونے والوں کی رہائی کے لیے شہر کے مختلف مقامات پر دھرنا دیا تھا۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ پہلے مظاہرین نے پولیس پر فائرنگ کی جوابی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔

دوسری جانب مظاہرین نے کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کو خضدار اور وڈھ کے مقامات پر کئی گھنٹے کے لیے بند کئے رکھا۔

بلوچستان نیشنل پارٹی نے فورسز کی فائرنگ سے نصیراحمد لانگو کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کا اعلان کردیا ہے۔ اعلان کے مطابق اتوار کو کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں احتجاجی مظاہرے، یکم جون کو شٹرڈاؤن اور 3جون کو پہیہ جام ہڑتال ہوگی۔

یہ بات پارٹی کے مرکزی قائم مقام سیکریٹری جنرل جہانزیب بلوچ اورمرکزی جوائنٹ سیکریٹری سابق رکن صوبائی اسمبلی اختر حسین لانگو نے نصیراحمد لانگو کی میت کے ہمراہ ہفتے کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز پولیس نے انتقامی کارروائی کرتے ہوئے پارٹی کے کارکنوں کوگرفتار کیاجس کے خلاف پارٹی کے کارکن احتجاج کررہے تھے کہ پولیس ان پر لاٹھی چارج، شیلنگ اورفائرنگ کی اورپارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل حبیب جالب بلوچ ایڈووکیٹ، غلام نبی مری، غلام رسول مینگل سمیت پارٹی کے 250 سے زائد کارکنوں کوگرفتارکرکے تھانوں میں بند کردیا جس کے خلاف پارٹی کے کارکن کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں سراپااحتجاج ہوگئے۔ کوئٹہ میں سریاب، ڈبل روڈ، جیل روڈ، اور سمنگلی روڈ سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں پرامن احتجاج کیاجارہاتھا کہ فورسز نے احتجاج پر شہباز ٹاؤن کے علاقے میں فائرنگ کرکے پارٹی کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری اورسابق رکن صوبائی اسمبلی اخترحسین لانگو کے کزن نصیراحمد لانگو سمیت پانچ نوجوان زخمی ہوئے تھے جن میں سے نصیراحمد لانگو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں چل بسا جس کے بعد پارٹی کے کارکنوں نے انکی میت کو جلوس کی شکل میں سول ہسپتال سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لاکر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے رہنماؤں نے کہاکہ فورسز آج بھی نہتے بلوچوں کو اپنی گولیوں کانشانہ بنارہی ہے جس طرح سابقہ پرویزمشرف کے دور میں بنایا جا رہا تھا۔ ’اس سے قبل بھی بلوچوں کو لاشوں کے تحفے مل رہے تھے اور آج بھی مل رہے ہیں جنہیں ہم قبول کرتے ہیں ہم ان پر غمزدہ ضرور ہیں مگر ہمیں ان کی جان کی قربانی پر فخر ہے کہ ایک بلوچ نے اپنی سرزمین کی وابستگی کے لیے جان کی قربانی دے کر بلوچوں کے حقوق کا تحفظ کیاہے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیاکہ نصیراحمد لانگو کے قاتلوں کوفوری طورپر گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے اور ٹارگٹ کلنگ کے الزام میں گرفتار بے گناہ افراد کو فوری طورپر رہا کیاجائے۔

اس سلسلے میں کیپٹل سٹی پولیس آفیسر کوئٹہ غلام شبیر شیخ نےبی بی سی نے نامہ نگار ایوب ترین کو بتایا ہے کہ اسمنگلی روڈ پراحتجاج کے دوران مظاہرین نے پہلے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی اور جوابی فائرنگ میں ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ جمعہ کو کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن میں فائرنگ کے نتیجے میں ایس ایچ او سمیت چار پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد پولیس نے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کرساٹھ سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان گرفتاریوں کے خلاف بی این پی کے کارکنوں نے سریاب روڈ، ڈبل روڈ اور منو جان روڈ پر ٹائر جلاکر احتجاجی مظاہرے کئے۔ انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ میں سکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کرنے کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر فرنٹیر کور کی مزید نفری کو بھی طلب کیا جاسکتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ہفتہ کو مظاہروں کے دوران امن و امان میں خلل ڈالنے کی کوشش کرنے والے ساٹھ سے زائد افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں غلام شبیر شیخ نے بتایا کہ مظاہرے کے دوران مشتعل افراد کی جانب سے گھروں میں گھسنے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

کوئٹہ میں گرفتاریوں کے بعد بی این پی کے کارکنوں نے خضدار ،وڈھ ، قلات ، مستونگ ،منگچر میں کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کو ٹائر جلاکر ٹریفک کیلئے بند کردیا کوئٹہ کراچی شاہراہ ٹریفک کیلئے بند ہونے کی وجہ سے سڑک کے دونوں جانب گاڑیوں کی لمبی لمبی لائنیں لگ گئیں اور شدید گرمی میں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔مظاہروں کا سلسلہ دن بھر جاری رہا جس کی وجہ سے کوئٹہ شہر میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا اور اسکول میں چھٹی کے بعد گھروں کو جانے والے بچوں کئی گھنٹے کی تاخیر سے گھروں کو پہنچے۔

اسی بارے میں