تحریک طالبان نے احمدی عبادت گاہوں پر حملے کرائے: پولیس

Image caption حملہ آور آٹھ روز پہلے قبائلی علاقے میران شاہ سے لاہور آئے تھے: پنجاب پولیس

پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز لاہور میں احمدیوں کی دوعبادت گاہوں پر حملہ کرنے والوں کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے ہے۔

احمدیوں کی دو عبادت گاہوں پر منظم حملوں می ں ترانوے افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پولیس کےمطابق چاروں حملہ آور آٹھ روز پہلے قبائلی علاقے میران شاہ سے لاہور آئے تھے اور عبادت گاہوں پر حملہ کے دوران ان میں سے دو ہلاک ہوگئے، ایک زخمی ہے جبکہ ایک کو زندہ گرفتار کرلیاگیا۔

چناب نگر آخری رسومات، تصاویر

پریس کانفرنس میں پولیس نے حملہ آور سے ملنے والا اسلحہ بھی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو دکھایا۔ ادھر پولیس نے ماڈل ٹاؤن سےگرفتار کیےگئے ایک حملہ آور عبداللہ عرف محمد کو عدالت میں پیش کرکے اس سے تفتیش کےلیے اس کا جسمانی ریمانڈ لےلیا ہے

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ پولیس کے ڈی آئی جی اور ترجمان پنجاب پولیس نعیم اکرم نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ معلوم ہوا ہے کہ جمعہ کو احمدیوں کی عبادت گاہوں پر حملہ کرنےوالوں کی تعداد چار تھی اور ان میں سے گڑھی شاہو میں عبادت گاہ پر حملہ کرنے والے دونوں حملہ آور پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگئے۔ ان کے نام منصور اور درویش ہیں۔

پولیس کے مطابق ماڈل ٹاون میں جو حملہ ہوا اس میں دونوں حملہ آوروں کو حراست میں لے لیا گیا اور ان میں معاذ نامی حملہ آور شدید زخمی ہے جبکہ عبداللہ عرف محمد کو زندہ پکڑا گیا ہے۔

نعیم اکرم نے بتایا کہ چاروں اکیس مئی کو بنوں کے راستے میران شاہ سے لاہور پہنچے اور لاہور میں بتی چوک اترے اور قریب ہی واقع مسجد سبز شیڈ والے میں اکٹھے ہوئے۔ پولیس ترجمان کے مطابق چاروں حملہ آوروں نے اکیس مئی کو لاہور میں ماڈل ٹاؤن اور گڑھی شاہو میں اپنے اپنے ساتھیوں کے ساتھ دونوں عبادت گاہوں کا جائزہ لیا جس کے بعد چاروں حملہ آور رائے وانڈ مرکز میں چلےگئے اور وہاں بقول پولیس، جھوٹ بول کر مختلف جگہوں پر چھپتے رہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ عبداللہ عرف محمد نے ماڈل ٹاؤن اور معاذ اور درویش نےگڑھی شاہو میں احمدیوں کی عبادت گاہوں پر حملہ کیے۔ پولیس کے بقول تحقیقات میں معلوم ہوا کہ اٹھائیس مئی کو یہ چار حملہ آور لاہور میں بتی چوک پر اکٹھے ہوئے جہاں سے ان کا عبداللہ عرف محمد اور معاذ کو موٹر سائیکل پر ماڈل ٹاؤن لےگیا جبکہ دوریش اور منصور دوسرے ساتھی کے ساتھ گڑھی شاہو میں حملہ کے لیے چلےگئے۔

ترجمان پنجاب پولیس نے بتایا عبداللہ عرف محمد کی عمر سترہ برس ہے اور اس کا تعلق رحیم یار خان کے خانپور کٹورہ سے ہے اور اب اس کے گھر والے کوئٹہ ٹاؤن کراچی میں رہتے ہیں جبکہ عبداللہ کا چھوٹا بھائی بدر بھی طالبان کے لیے کام کرتا ہے۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ عبداللہ عرف محمد کو منیب نامی شدت پسند نے میران شاہ میں تربیت دی ہے۔

ڈی آئی جی نعیم اکرم نے دعویْ کیا کہ انہیں حملہ آور سے تحقیقات میں مفید معلومات ملی ہیں جس سےتحقیقات میں پیش رفت ہوگی۔ ڈی آئی جی کے بقول جمعہ کو ہونے والے حملوں میں دس پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں جن میں نوگڑھی شاہو میں جبکہ ایک پولیس انسپکٹر ماڈل ٹاؤن میں زخمی ہوا۔ انہوں نے بتایا گڑھی شاہو میں زخمی ہونے والوں میں ایس پی اور اے ایس پی کے عہدے کے دو افسر بھی شامل تھے۔

پولیس نے سنیچر کے روز عبداللہ عرف محمد کو کڑے حفاظتی انتظامات میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا اور ملزم سے تفتیش کے لیے اس کا تیس دنوں کا ریمانڈ دینے کی استدعا کی۔ عدالت نے ملزم کا بیس دنوں کا ریمانڈ دیتے ہوئے پولیس کو ہدایت کی کہ ملزم کو دوبارہ اٹھارہ جون کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

دوسری جانب مختلف سماجی اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار پیپلز رائٹس کے عہدیداروں نے احمدیوں کی عبادت گاہوں پر حملہ کے نیتجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی شدید مذمت کی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے حنا جیلانی ایڈوکیٹ نے مطالبہ کیا کہ اس بات کی فوری اور آزادنہ تحقیقات کی جائیں کہ انٹیلیجنیس ایجنسیوں کی اطلاعات پر ضروری حفاظتی انتظامات کیوں نہیں کیےگئے۔

انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ احمدیوں کے خلاف نفرت پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

جماعت احمدی کے عہدیداروں نے سینچر کے روز میڈیا کو ایک فہرست فراہم کی ہے جس کے مطابق حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں ترانوے ہوگئی ہے اور مرنے والے تمام احمدی ہیں۔

جماعت احمدی کے عہدیداروں نے میڈیا کے ارکان کو گڑھی شاہو میں اس عبادت کا دورہ بھی کروایا جہاں پر جمعہ کی دوپہر کو حملہ کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں