اورکزئی: پندرہ شدت پسند ہلاک، دس زخمی

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی جیٹ طیاروں اور توپخانے سے کارروائی میں پندرہ شدت پسند ہلاک اور دس زخمی ہوگئے ہیں۔

فائل فوٹو
Image caption اورکزئی ایجنسی میں گزشتہ کچھ عرصے سے سکیورٹی فورسز غیر اعلانیہ آپریشن کر رہی ہیں

ایک اعلیٰ فوجی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کو اپر اورکزئی کے تین مختلف علاقوں غلجو، تور کانڑے اور ناریک میں واقع شدت پسندوں کے چھ ٹھکانوں پر جیٹ طیاروں سے بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں دس شدت پسند ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بمباری سے شدت پسندوں کے تمام ٹھکانے تباہ ہوگئے ہیں۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ مائزارگڑھی، پالوسر اور فیصل درہ میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو سکیورٹی فورسز نے توپخانے سے نشانہ بنایا اور اس کارروائی میں پانچ شدت پسند ہلاک ہو گئے۔انہوں نے بتایا کہ اس کارروائی میں چھ شدت پسندوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہیں۔

پشاور سے ہمارے نامہ نگار دلاور خان وزیر نے کہا ہے کہ مقامی لوگوں کے مطابق اپر اورکزئی ایجنسی کے مائزار گڑھی، پالوسر اور فیصل درہ کے مختلف علاقوں پر سنیچر اور اتوار کی درمانی شب سے مسلسل توپخانے کا استمعال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سینکڑوں شہریوں نے خوف کی وجہ سے رات گھروں سے باہر گزاری اور بہت سے شہریوں نے علاقے سے نقل مکانی بھی شروع کر دی ہے۔

ایک مقامی صحافی حسن محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ اپر اورکزئی سے ملنے والے تمام راستوں کو سکیورٹی فورسز نے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب سے مسلسل گولہ باری کی وجہ سے ہزاروں لوگوں نے علاقے سے پیدل نقل مکانی شروع کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نقل مکانی کرنے والے متاثرین شاھو خیل اور شمس الدین کے دشوار گزار پہاڑی راستوں سے ہنگو اور کوہاٹ کی طرف جا رہے ہیں۔جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

خیال رہے کہ اورکزئی ایجنسی میں گزشتہ کچھ عرصے سے سکیورٹی فورسز غیر اعلانیہ آپریشن کر رہی ہیں اور اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد نے متاثرہ علاقے سے نقل مکانی کر کے ہنگو، کوہاٹ اور پشاور میں پناہ لی ہے۔

اسی بارے میں