معروف تاجر ریاض لال جی بازیاب

کراچی سے اتوار کو مبینہ طور پر اغواء ہونے والے تاجر ریاض لال جی گھر پہنچ گئے ہیں تاہم ان کے ڈرائیور اور محافظ تاحال لاپتہ ہیں۔

Image caption ریاض لال جی پر کوئی تشدد نہیں کیا گیا اور نہ ہی انہوں نے کسی قسم کا تاوان ادا کیا: پولیس

پیر کی صبح ریاض لال جی کے گھر کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے ریاض لال جی کی بازیابی کی تصدیق کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزمان حب ریور روڈ پر ریاض لال جی کو گاڑی میں پھینک کر فرار ہو گئے۔ ان کے مطابق پولیس اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کی کارکردگی نے اغوا کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔

رحمان ملک کا کہنا ہے کہ ریاض لال جی کے ڈرائیور اور محافظ ابھی تک لاپتہ ہیں۔ان کی بازیابی کے لیے کوششں جاری ہیں اور تفتیش ہو رہی ہے کہ اگر اسے اس مرحلے پر ظاہر کریں گے تو ڈرائیور اور محافظ کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

کراچی سے ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر کے بقول اگر انٹیلیجنس ادارے یہ نہ بتاتے کہ فلاں علاقے میں مشکوک ملزمان موجود ہیں اور پولیس ناکہ بندی نہ کرتی تو ریاض لال جی کی بازیابی نہ ہوتی۔

رحمان ملک کا کہنا تھا کہ ریاض لال جی ابھی صدمے میں ہیں جب ان کی ڈی بریفنگ ہوگی تو تبھی معلوم ہوگا کہ انہیں کس گروہ نے اغوا کیا تھا۔

اس موقع پر موجود کراچی پولیس کے سربراہ وسیم احمد کا کہنا تھا کہ ریاض لال جی پر کوئی تشدد نہیں کیا گیا اور نہ ہی انہوں نے کسی قسم کا تاوان ادا کیا ہے۔

یاد رہے کہ اتوار کو مشہور تاجر ریاض لال جی دبئی سے کراچی پہنچے تھے اور ائر پورٹ سے شاہراہ فیصل پر پہنچتے ہی دو گاڑیوں میں سوار مسلح افراد نے انھیں روکا اور گاڑی سے ُاتار کر ڈرائیور اور محافظ کے ہمراہ اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق ریاض لال کا شمار صدر آصف علی زرداری کے قریبی حلقے میں ہوتا ہے، اغوا کی اس مبینہ واردات کے وقت صدر زرداری کراچی شہر میں موجود تھے اور وفاقی وزیر داخلہ بھی راتوں رات کراچی پہنچ گئے تھے۔

سابق صدر فاروق لغاری نے جب انیس سو چھیانوے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ختم کردی تھی تو ریاض لال جی دبئی چلے گئے تھے اور ان پر احتساب بیورو نے مقدمات بھی دائر کیے تھے موجودہ حکومت کے قیام کے بعد وہ ملک واپس آئے۔

اسی بارے میں