’ویٹ‘ کے نفاذ اور وصولی پر اختلافات

پاکستان کا قومی بجٹ پیش کرنے میں چند روز باقی رہ گئے ہیں لیکن مرکز اور صوبوں میں خدمات پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس(ویٹ) کے نفاذ اور اس کی وصولی کا معاملہ ابھی حل طلب ہے۔

فائل فوٹو
Image caption صوبہ سندھ کا کہنا ہے کہ آئین اور قومی مالیاتی ایوارڈ کے مطابق خدمات پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے نفاذ اور وصولی کا اختیار وہ خود استمعال کرنا چاہتا ہے

فریقین نے امید ظاہر کی ہے کہ پہلے سے اعلان کردہ پروگرام کے مطابق پانچ جون کو قومی بجٹ پیش ہونے سے پہلے وہ اختلافات طے کر لیں گے۔

آئین اور حال ہی میں اتفاق رائے سے نافذ کردہ قومی مالیاتی ایوارڈ کے تحت ٹیکس کے نفاذ اور وصولی کا اختیار مرکزی حکومت کے پاس ہے جبکہ خدمات پر یہ اختیار صوبوں کو حاصل ہے۔

گزشتہ ہفتے وزیراعظم کی میزبانی میں ہونے والی بات چیت کامیاب نہیں ہوسکی لیکن وفاقی حکومت کی کوششیں اب بھی جاری ہیں۔

مرکزی حکومت عالمی مالیاتی ادارے ’آئی ایم ایف‘ کو یقین دہانی کرا چکی ہے کہ پہلے سے نافذ سولہ فیصد جنرل سیلز ٹیکس کی جگہ یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال سے اُسی شرح کے ساتھ ویلیو ایڈڈ ٹیکس نافذ کریں گے۔

پہلے تو چاروں صوبوں اور وفاق کے درمیاں جنرل سیلز ٹیکس کی جگہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس نافذ کرنے پر اختلاف رائے تھا لیکن اب وہ معاملہ طے پاچکا ہے مگر اِس وقت صوبہ سندھ اور مرکز میں خدمات پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے نفاذ اور وصولی کے اختیار پر اختلاف ہے۔

مرکز کی خواہش پر پنجاب سمیت تین صوبے متفق ہیں کہ خدمات پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس بھی صوبوں کی جانب سے وفاق وصول کرے اور ایک فیصد سروس چارجز کاٹ کر باقی متعلقہ صوبے کو اپنا حصہ واپس کرے۔

لیکن صوبہ سندھ کہتا ہے کہ آئین اور قومی مالیاتی ایوارڈ کے مطابق خدمات پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے نفاذ اور وصولی کا اختیار وہ خود استمعال کرنا چاہتا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ کے ایک مشیر قیصر بنگالی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ٹیلی کمیونیکیشن، بینکنگ، ٹریول ایجنٹ، ایڈورٹائیزنگ ایجنسیوں، وکلا، ڈاکٹرز، انجینیئرز، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، ریستوارن، بیوٹی پارلر اور دیگر خدمات پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس سندھ خود نافذ اور وصول کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صرف ٹیلی کمیونیکیشن سروس سے پچاس ارب روپوں سے زیادہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس وصول ہوگا اور اس میں پانچ فیصد خیبر پختونخوا اور بلوچستان کا حصہ بنتا ہے جبکہ باقی میں پنجاب اور سندھ نصف کے حصہ دار ہیں۔ ان کے مطابق صرف اس ایک شعبے سے سندھ کو بیس سے پچیس ارب روپے ملیں گے۔

مسلم لیگ (ن) کے اسحٰق ڈار سمیت حزب مخالف کے بعض اراکین کہتے رہے ہیں کہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے نفاذ سے حکومت کو اضافی آمدنی نہیں ہوگی اور اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔

اس بارے میں کراچی میں ایک اقتصادی پالیسیوں پر تحقیق سے متعلق ایک ادارے کے سربراہ اسد سعید کا کہنا ہے کہ جنرل سیلز ٹیکس کی جگہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے نفاذ سے ویسے تو فرق نہیں پڑتا کیونکہ شرح ایک ہی ہے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ اگر ریفنڈ کے نظام میں گڑ بڑ ہوئی اور تاخیر ہوئی تو پھر بیوپاری دوگنی شرح سے ٹیکس وصول کریں گے اور اس سے صارفین کو مشکلات کا سامنا کر پڑ سکتا ہے۔

یہ خدشات اپنی جگہ لیکن بعض ماہرین کہتے ہیں کہ خدمات پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس کا آئینی اختیار صوبوں کو ملنے سے صوبے مالی طور پر مستحکم ہوں گے اور انہیں مرکز پر انحصار کم کرنا پڑے گا۔

ان کے مطابق اگر مرکز نے یہ اختیار صوبوں کو نہیں دیا تو یہ اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو دی گئی صوبائی خودمختاری کی نفی ہوگی اور اس تاثر کو تقویت ملے گی کہ موجودہ حکومت اب بھی مرکز مضبوط کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

اسی بارے میں