تبادلے کے منتظر قیدی

پاکستان کا صوبہ سندھ ہو یا بھارتی گجرات دونوں کے ماہی گیر ہر مرتبہ اس خوف کے ساتھ مچھلی کا شکار کرنے سمندر میں جاتے ہیں کہ واپس لوٹیں گے یا دھر لیئے جائیں گے۔گہرے سمندر میں روزگار کی تلاش کرتے ہوئے وہ کب اپنے ملک کی سرحد سے نکل جاتے ہیں اس کا انہیں اندازہ نہیں رہتا۔

پاکستان میں اس وقت چھ سو چھبیس بھارتی ماہی گیر جبکہ بھارت کی جیلوں میں دو سو کے قریب ماہی گیر قید ہیں، جن میں سے کئی کی مقامی عدالتوں کی جانب سے سنائی گئیں سزائیں بھی پوری ہوچکی ہیں،مگر پھر بھی انہیں رہائی نصیب نہیں ہوتی۔ جب تک دونوں ملکوں کے ماہی گیر قیدیوں کا تبادلہ نہیں ہوتا یہ قید رہتے ہیں۔

بھارت اور پاکستان کی سول سوسائٹی نے اب ان ماہی گیروں کی رہائی کے لیے دونوں ملکوں کی عدالتوں سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پاکستان فشرفوک کے رہنما محمد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ماہی گیر دونوں حکومتوں سے مایوس ہو چکے ہیں۔

ان کے مطابق اقوام متحدہ کا سمندروں کے بارے میں جو عالمی کنوینشن ہے اگر دونوں حکومتیں اس پر مکمل طور پر عمل کریں تو ماہی گیروں کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے، اس کنویشن میں واضح طور پر یہ کہا گیا ہے کہ ماہی گیر اگر مچھلی کا شکار کرتے ہوئے سرحد عبور کرتا ہے تو نہ اسے گرفتار کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسے سزا دی جاسکتی ہے مگر وہ سمجھتے ہیں کہ دونوں حکومتیں قیدی ماہی گیروں کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔

بھوٹان میں گزشتہ دنوں سارک کانفرنس کے موقعے پر جس دن پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ کی ملاقات ہونی تھی اس روز کراچی اور بھارتی گجرات میں ماہی گیروں نے مظاہرے کیئے جن میں ماہی گیروں کے مسئلے کے مستقل حل کے لیے حکمت عملی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ۔

بھارت کے ماہی گیروں کی تنظیم نیشنل فش ورکز یونین کے رہنما ونیش بھائی کا کہنا ہے کہ دونوں وزیراعظموں نے مایوس کیا۔

بقول ان کے ’ ہم نے تو حکومت کو کئی بار کہا ہے کہ کہ پاکستان اور بھارت کی سمندری حدود میں پچیس نوٹیکل میل کی حدود میں فری فشنگ زون بنایا جائے تو بھی یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ لائسنس جاری کرکے بھی اس مسئلے سے جان چھڑائی جاسکتی ہے، یا جس طرح سے سری لنکا اور بھارت میں ایک معاہدہ ہے جس کے تحت جو بھی ماہی گیر پکڑ جاتا ہے اسے پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا جاتا ہے ایسے بھارت اور پاکستان میں بھی معاہدہ ہوسکتا۔’

یاد رہے کہ انیس سو ساٹھ سے سر کریک کی ملکیت پر پاکستان اور بھارت میں کشیدگی پیدا ہوئی، جس کے بعد اس متازعہ علاقے سے ماہی گیروں کی گرفتاری کا سلسلہ شروع ہوا، پینتالیس سال کے باوجود نہ سرکریک کا مسئلہ حل ہوا اور نہ ہی ماہگیروں کا۔