دہشتگردوں کو فوری انصاف کا فائدہ بھی

Image caption سکیورٹی کے خدشات کے تحت شدت پسندوں کے ساتھ خصوصی سلوک کیا جاتا ہے

پاکستان میں شدت پسندوں کے خلاف جس قانون کے تحت مقدمات چلائے جاتے ہیں قانونی ماہرین کاکہنا ہے کہ اس کا بعض اوقات شدت پسندوں کو فائدہ ہی پہنچتا ہے کیونکہ عام ملزموں کی طرح طویل اور تکلیف دہ حد تک سست نظام انصاف کے برعکس وہ تیز رفتار انصاف کی سہولت سے مستفید ہوتے ہیں۔

انسداد دہشتگردی ایکٹ کےتحت پولیس گرفتار شدت پسند کے خلاف سات روز کے اندر چالان پیش کرنے کی پابند ہے جبکہ انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالتیں دو روز سے زیادہ تاریخ نہیں دے سکتیں۔ دوسری طرف فیصلے کے بعد ہائی کورٹ ایک مہینے کےاندر اپیل سننے کی پابند ہیں۔

آفتاب باجوہ ایڈووکیٹ کاکہنا ہےکہ ’اس کےمقابلے میں عام عدالتوں کےکیس کئی کئی ماہ چالان ہی نہیں ہو پاتے اور سزائے موت پانے والے قیدیوں کی اپیلیں بعض اوقات دس سال تک زیر التو رہتی ہیں‘۔

آفتاب باجوہ ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت سنگین مقدمات میں ملوث ملزموں کو ایسی سہولتیں ملتی ہیں جن کے بارے میں عام مقدمے کا قیدی سوچ بھی نہیں سکتا۔

کئی شدت پسندوں کو عدالت لانے لے جانے اور بخشی خانوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح بند کیے جانے کی تکلیف بھی نہیں دی جاتی اور سیکورٹی کو بنیاد بنا کر ان کے جیل ٹرائل کیے جاتے ہیں۔

اب لاہور سمیت کئی جیلوں میں شدت پسندوں کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے مقدمے کی سماعت کی سہولت دیدی گئی ہے۔

لاہور گوجرانوالہ، سیالکوٹ، راولپنڈی سمیت پنجاب کی کئی جیلوں میں سترہ برس گزار کر بری ہونے والے ایک قیدی مندی کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے لیے جیل میں الگ بلاک ہے ان کا کھانا باقی قیدیوں سے الگ ہے وہ جو چاہتے ہیں وہ سہولت انہیں ملتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ ان شدت پسندی کے الزام میں آنے والے قیدیوں کی پیروی ان کی وہ تنظیمیں کر رہی ہوتی ہیں جن سے جیل کا عملہ بھی خائف ہوتا ہے۔

یہاں ایک یہ سوال بھی پیدا ہوتا کہ اگر انسداد دہشتگردی کی عدالتیں تیز رفتاری سے مقدمات کی سماعت کرتی ہیں تو اس سے مجرموں کو جلد کیفرکردار تک پہنچانے میں مدد ملتی ہوگی۔

آفتاب باوجوہ ایڈووکیٹ اس بات کو نہیں مانتے انہوں نے جواب میں ملک اسحاق کیس کی مثال دی جن کے خلاف ایک سو تئیس مقدمات تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک اسحاق کو ان مقدمات میں انسداد دہشتگردی کی عدالت سے سزا ہوئی لیکن ہائی کورٹ جاکر وہ تمام مقدمات سے بری ہوگئے کیونکہ ان کے خلاف کوئی گواہ ہی پیش نہیں ہوسکا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا عدالتی نظام گواہی پر چلتا ہے۔ پولیس کے پاس تفتیش کے ذرائع اور جدید آلات ہیں اور نہ ہی انہیں اس بات کی تربیت دی جاتی ہے کہ وہ واقعاتی شہادتوں کی بنیاد پر مقدمہ تیار کریں۔تمام مقدمے کا انحصار گواہیوں پر ہوتا ہے اور بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ گواہ کسی شدت پسند تنظیم کے مقابلے کھڑا رہ سکے۔

مظفر حسین ایڈووکیٹ زیادہ تر ایسے مقدمات کی پیروی کرتے ہیں جن میں شدت پسند ملوث ہوں۔ان کا کہنا ہے کہ یہ تاثر درست نہیں ہےکہ جن لوگوں کو کالعدم تنظیموں سے وابستہ ہونے کی بنیاد پر پکڑا جاتا ہے وہ دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ وہ کئی برس سے ایسے مقدمات لڑ رہے ہیں لیکن انہیں کبھی اسی دھمکی نہیں ملی جسے سنجیدہ کہا جاسکے۔

ایک ہندوستانی شہری سربجیت سنگھ کو پاکستان میں دہشتگردی کے الزام میں سزائے موت سنائی جاچکی ہے اور وہ بیس برس سے پاکستانی جیل میں قید ہیں۔

ان کے وکیل عبدالحمید رانا کا کہنا ہے کہ یہ ایکٹ بعض اوقات سخت ناانصافی کا سبب بھی بن جاتا ہے کیونکہ جن غریب اور بے بس ملزموں کی پشت پر طاقتور تنظیمیں یابااثر افراد کا ہاتھ نہ ہو یہ سخت قوانین ان پر آری کی طرح چلتے ہیں۔

قانونی ماہرین کی رائے ہے کہ انسداد دہشتگردی کی عدالتیں دراصل انصاف کا متوازی نظام ہے اور اسے ختم ہونا چاہیے۔

عبدالحمید رانا ایڈووکیٹ نے تجویز دی کہ اگر یہی اختیارات سیشن ججوں کو دے دیئے جائیں تو مقدمات کہیں زیادہ تیز رفتاری سے نمٹائے جاسکتے ہیں اور انصاف کے تقاضے بھی زیادہ مناسب انداز میں پورے کیے جا سکتے ہیں۔