’دعا کرو مجھے موت آجائے‘

Image caption بھائی کہتا ہے کہ یا تو جیل رہا کرا دو یا پھر موت کی سزا دلوا دو

’خدا کے لیے میری جیل سے جان چھوڑا دو اور گھر لے جاؤ یا پھر دعا کرو کہ مجھے موت آجائے‘ ۔ یہ الفاظ پچیس سالہ محمد عظیم کے ہیں جو اپنے خلاف قتل کے مقدمہ کی سماعت مکمل نہ ہونے کی وجہ سے گزشتہ سات برس سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے۔

آڈیو رپورٹ سننے کے لیے کلک کریں

عظیم کے بھائی شوکت سلیم کے مطابق جب بھی ان کی اپنے بھائی سے ملاقات ہوتی ہے تو وہ رو رو کر ایک ہی بات کہتا ہے کہ یا تو اس کی جیل سے جان چھوڑا دو یا اسے موت کی سزا دلوا دو۔

محمد عظیم پر اپنے باپ کے قاتل کو قتل کرنے کا الزام ہے اور اس کے خلاف یہ مقدمہ اس وقت درج ہوا جب اس کی عمر اٹھارہ برس تھی۔

عظیم کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ جیل میں نامناسب ماحول کی وجہ سے عظیم کو ٹی بی کا مرض بھی لاحق ہوگیا ہے جبکہ اسے اکثر دانتوں میں بھی تکلیف رہتی ہے اور کچھ عرصہ پہلے ہی اس کا اپینڈکس کا بھی آپریشن ہوا تھا۔

عظیم کے بھائی سلیم شوکت نے بتایا کہ انہیں اپنے بھائی سے ملاقات کرنی ہو یا پھر اسے جیل میں ادویات پہنچانی ہوں اس کے لیے پیسے دینا پڑتے ہیں اور ہر ماہ ان کا پنتیس ہزار روپے خرچا ہوتا ہے جبکہ اب تک وہ سترہ لاکھ روپے خرچ کرچکے ہیں۔

عظیم کے بھائی کے بقول اگر جیل والوں کو پیسہ نہ دیا جائے تو قیدی کو گالیاں دیتے ہیں، اس کی تذلیل کرتے ہیں اور بلاجواز اسے کو پریشان کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کے بھائی کو لاہور سے ساٹھ کلومیٹر دور ضلع قصور کی جیل منتقل کر دیا ہے حالانکہ وہ لاہور کے رہائشی ہیں۔ بھائی کی لاہور سے قصور جیل منتقلی کی وجہ سے نہ صرف ان کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے بلکہ اخراجات بھی بڑھ گئے۔ان کے بقول بھائی کی دوبارہ لاہور کی جیل میں منتقلی کے لیے درخواست دی ہے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

سلیم شوکت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بھائی کو جیل میں تکلیف نہیں دے سکتے اس لیے وہ تمام اخراجات کو پورا کرنے کے لیے سود پر قرض لیتے ہیں۔ ان کا گھر بینک کے پاس گروی ہے اس لیے وہ جو کچھ کماتے ہیں اسی پر خرچ ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے ان کی بہنوں کی ابھی تک شادی نہیں ہوسکی۔

قیدی عظیم کے بھائی کا یہ کہنا ہے کہ ان کے بھائی کو جس وین کے ذریعے جیل سے لاہور کی عدالت میں لایا جاتا ہے اس وین کے عملے کو بھی پیسے دینے پڑتے ہیں تاکہ راستے میں ان کے بھائی کو تنگ نہ کیا جائے اور ضرورت پڑنے پر اسے پینے کے لیے پانی بھی دے دیا جائے۔

سلیم شوکت کے مطابق جب ان بھائی جیل سے بخشی خانے پہنچ جاتا ہے تو اس صورت میں بھی ان کے مسائل کم نہیں ہوتے اور وہاں پر انہیں پیسے دینے پڑتے ہیں کیونکہ اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا ۔انہوں نے بتایا کہ بھائی کو بخشی خانے سے عدالت میں پیش کرانے کے لیے انہیں نہ صرف بخشی خانے پر مامور لوگوں کو پیسے دیتے ہیں بلکہ عدالت کے اہلکار کو بھی پیسے دینا پڑے ہیں جس کے بعد ان کے بھائی کو عدالت میں پیش کیا جاتا ہے۔

ان کے بقول ان کے بھائی کے عدالت میں پیشی پر کم از کم دو ہزار کا خرچا آتا ہے۔

عظیم کے وکیل جاوید اقبال راجہ کا کہنا ہے کہ مقدمہ کا ٹرائل ختم نہ ہونے کی تمام تر ذمہ داری استغاثہ پر عائد ہوتی ہے کیونکہ یہ مقدمہ بریت کا ہے اور استغاثہ کا کیس کمزور ہے اسی لیے استغاثہ تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے اور گواہوں کو سماعت کے موقع پر پیش نہیں کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے مقدمہ میں پیش رفت نہیں ہوتی۔

جاوید اقبال راجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں عمر قید کی سزا دس برسوں میں مکمل ہوجاتی ہے اور عظیم نے جرم ثابت ہوئے بغیرسات سال قید کاٹی ہے اور اس طرح وہ عمر قید کے قریب تو سزا بھگت چکا ہے۔ وکیل کے بقول بری ہونے پر عظیم ماسوائے ہرجانے کا دعویْ کرنے کے سوا کچھ نہیں سکتا اور ایسا کرنے کا ملک میں کوئی رواج نہیں ہے۔ جاوید اقبال راجہ کا کہنا ہے کہ ویسے بھی معاوضہ کی ادائیگی سے اس کی جوانی کے وہ دن واپس نہیں مل سکتے جو اس نے جیل میں گزر ے ہیں ۔

ماہرین قانون کے مطابق عظیم کو عمر قید کی سزا ہونے کی صورت میں وہ عرصہ اس کی سزا میں شامل کردیا جائے جو اس نے اپنے خلاف مقدمہ کی سماعت کے دوران جیل میں کاٹا لیکن اس کے بری ہونے کی صورت میں ایسا طریقہ کار نہیں ہے جس سے اس قید کا مداوہ کیا جاسکے جو اس نے بغیر کسی جرم کے کاٹی ہے۔

قانون ماہرین کے بقول مقدمہ پر کارروائی کے دوران ملزم کی قید ایک ایسی سزا ہے جوخود ایک سوالیہ نشان ہے اور بری ہونے کی صورت میں ایسی سزا کا کوئی شمار نہیں۔