مہمند ایجنسی اہلکار ہلاک، سکول اور صحت مرکز تباہ

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں شدت پسندوں کی طرف سے سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے میں ایف سی کے ایک اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

Image caption مہمند ایجنسی میں سکولوں اور صحت مراکز پر خاصے عرصے سے حملے جاری ہیں۔

ایک اور واقعہ میں مسلح افراد نے لڑکیوں کا ایک سرکاری سکول اور بنیادی صحت کے مرکز کو بارودی مواد سے تباہ کردیا ہے۔

مہمند ایجنسی کے ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلہ واقعہ پیر کی شب آپر سب ڈویژن کے علاقے بائیزی میں اس وقت پیش آیا جب مسلح عسکریت پسندوں نے غنم شاہ چیک پوسٹ کومارٹر گولوں سے نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ حملے میں سوات سکواٹس کے ایک ایف سی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

یادرہے کہ غنم شاہ چیک پوسٹ کو اس سے پہلے بھی متعدد بار شدت پسندوں کی طرف سے حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے جس میں کئی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ چیک پوسٹ آپر سب ڈویژن میں عسکریت پسندوں کے خلاف ایک مضبوط مورچہ کے طورپر جانا جاتا ہے۔

ادھر مہمند ایجنسی ہی کے علاقے تحصیل صافی میں دو الگ الگ واقعات میں عسکریت پسندوں نے سرکاری سکول اور دیہی صحت کے ایک مرکز کو باوردی مواد سے تباہ کردیا ہے۔

سرکاری اہلکار نے بتایا کہ دھماکوں سے دونوں عمارتیں مکمل طورپر تباہ ہوگئیں ہیں۔

مہمند ایجنسی میں ایک عرصہ سے سکیورٹی چیک پوسٹوں، سرکاری عمارات اور سکولوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ان حملوں میں کم سے کم سو کے قریب سکولوں، بنیادی صحت کے مراکز اور دیگر دفاتر کو تباہ کیا جاچکا ہے۔

یہ حملے ایسے وقت ہورہے ہیں جب ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے۔ تاہم ابھی تک کسی بھی علاقے سے شدت پسندوں کا مکمل خاتمہ نہیں کیا جاسکا ہے۔ علاقے میں حکومتی حامی امن کمیٹیوں کی طرف سے بھی مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اسی بارے میں