’چاہتے ہیں، جمہوری نظام چلتا رہے‘

اٹھارویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس میں کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ جمہوری نظام چلتا رہے اور اُسے کوئی نقصان نہ پہنچے۔

سپریم کورٹ
Image caption سپریم کورٹ پارلیمانی کمیشن کے ذریعے ججوں کی تقرری کے طریقۂ کار کے خلاف درخواستوں کی سماعت کر رہی ہے۔

بدھ کو اٹھارویں ترمیم میں پارلیمانی کمیشن کے ذریعے ججوں کی تقرری کے طریقۂ کار کو چیلینج کیے جانے کے خلاف دائر کی جانے والی درخواستوں کی سماعت کے دوران سترہ رکنی فل کورٹ کے سامنے ایڈووکیٹ اکرم شیخ نے اپنے دلائل جاری رکھے اور کہا کہ آئینی کمیٹی کو ججوں کی تقرری کے طریقۂ کار میں ترمیم کا مینڈیٹ نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ آئین میں عدلیہ سے متعلق ترامیم سے قبل آئینی کمیٹی نے قومی عدالتی پالیسی کمیٹی اور پاکستان لاء کمیشن سے کوئی مشاورت نہیں کی۔ ان کے مطابق جب برطانیہ میں عدلیہ سے متعلق ترامیم کی گئیں تو عدلیہ سے مشاورت کی گئی تھی۔

بعض مواقع پر عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ماورائے آئین اقدامات کی حمایت نہ کرنے کا معاملہ وہ اکتیس جولائی کے فیصلے میں طے کر چکی ہے اور اس نکتے کو ججوں کے ضابطۂ اخلاق کا حصہ بھی بنایا گیا ہے۔

دلائل کے دوران ایڈووکیٹ اکرم شیخ نے ججوں کی تقرری کے نئے آئینی طریقۂ کار کو عدلیہ کی تباہی کا نسخہ قرار دیا۔ جس پر جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ججوں کی تقرری کے لیے پارلیمانی کمیشن میں چیف جسٹس کے علاوہ دو جج اور اٹارنی جنرل بھی شامل ہیں تو عدلیہ کی آزادی کیسے متاثر ہوگی؟

اکرم شیخ نے کہا کہ اس میں سینئر جج تو ہیں لیکن وہ غیر متعلقہ افراد کے رحم وکرم پر ہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے انہیں یاد دلایا کہ جس آئین کو مقدس دستاویز کہا جاتا ہے وہ بھی انہی سیاستدانوں کا دیا ہوا ہے۔

ایک موقع پر جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے نے کہا کہ جمہوری نظام کی خاطر ججوں نے قید کاٹی۔ ان کے بیوی بچوں نے بھوک برداشت کی۔ عدلیہ نے قربانی دی لیکن عدلیہ کے ہاتھ کاٹ دیے گئے ہیں۔

انہوں نے عبوری آئین کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کو فارغ کرنے کے فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’اکتیس جولائی کو ہم نے پھر قربانی دی اور ہمارے دوستوں کو نوکری چھوڑنی پڑی۔ ہم نے جمہوری نظام، ملک اور قوم کے لیے قربانی دی ۔ لیکن ہو کیا رہا ہے کہ جو فیصلہ دیتے ہیں وہ مانتے نہیں۔ہم کہتے ہیں فلاں بندے سے انکوائری کروائیں لیکن وہ مانتے ہی نہیں۔ اگر نظام خود کشی کرے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟‘

اکرم شیخ نے کہا کہ پارلیمان نے عدلیہ کے متعلق ترامیم عجلت میں پاس کی ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے اٹھارویں آئینی ترمیم پر پارلیمان میں ہونے والی بحث کا ریکارڈ طلب کیا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ متعلقہ ریکارڈ جمعرات کو عدالت میں پیش کردیں گے۔

اکرم شیخ نے ایک موقع پر جب اِدھر اُدھر کی باتیں کرنا شروع کیں تو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے انہیں روکا اور مشورہ دیا کہ وہ عدلیہ کی انتظامیہ سے آزادی کے نکتے پر دلائل دیں اور جب اس خیال کو آگے لے کر چلیں گے تو پھر آئین کے آرٹیکل ایک سو پچھہتر (پارلیمانی کمیشن کے ذریعے ججوں کے تقرری کی شق) کو تنقید کا ہدف بنا سکتے ہیں۔

جس پر اکرم شیخ نے کہا ’میرے آقا حکم کی تعمیل ہوگی‘ اور وقت ختم ہونے پر مزید سماعت جمعرات کی صبح تک ملتوی کردی گئی۔

اسی بارے میں