بلوچستان: تربت میں آپریشن کا الزام

کوئٹہ سمیت صوبے کے دیگر بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔ پاکستان کے بلوچ قوم پرستوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع تربت میں آپریشن کا آغاز کیا ہے جس میں اب تک کئی افراد گرفتار ہوچکے ہیں لیکن سرکاری ذرائع نے نئے آپریشن کے اس الزام کی تردید کی ہے۔

بلوچ قوم پرستوں کے مطابق سکیورٹی فورسز نے یہ آپریشن تربت سے ساٹھ کلو میٹردور ایرانی سرحد کے قریب دشت کے علاقے میں دو روز قبل شروع کیا۔

کہا جاتا ہے کہ علاقے میں وسیع پیمانے پر اسلحہ استعمال ہو رہا ہے جب کہ سکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر کئی پانی کے پہاڑی چشموں کو بھی اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔

نئے آپریشن کے خلاف بلوچ نیشنل فرنٹ کی اپیل پر کوئٹہ سمیت صوبے کے دیگر بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔ جبکہ قلات، پنجگور، تربت اور گوادر میں مختلف قوم پرست سیاسی جماعتوں کی جانب سے احتجاجی کیمپ بھی لگائے گئے ہیں۔

آپریشن کے بارے میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری حبیب جالب بلوچ نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار ایوب ترین سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دشت کے لوڑی آب اور کوہ تالار میں فوجی آپریشن کے دوران گن شپ ہیلی کاپٹروں کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔

انہوں نے پیپلزپارٹی کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی روٹی کپڑا اور مکان دینے کی بجائے ہمیں جیل بھیج رہی ہے اور بلوچستان میں بزور طاقت حکمرانی کی کوشش ہو رہی ہے جس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔

اس سلسلے میں جب میں نے کوئٹہ میں فرنٹیئرکور کے ترجمان مرتضی بیگ سے رابطہ کیا توانہوں نے ان اطلاعات کی تردید کی کہ دشت سمیت بلوچستان کے کسی علاقے میں آپریشن ہو رہا ہے۔

خیال رہے کہ ایک ہفتہ قبل تربت کے اس علاقے میں بلوچ شدت پسندوں نے فرنٹیئرکور کی ایک گاڑی پر حملہ کیا تھا جس میں بلوچ لیبریشن فرنٹ کے مطابق سکیورٹی فورسز کے سات اہلکار ہلاک ہوئے تھے تاہم کوئٹہ میں ایف سی ذرائع نے صر ف دواہل کاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

اسی بارے میں