’کشمیریوں کے بغیر کوئی بھی کامیابی مشکل‘

جموں و کشمیر کو بھارتی آئین میں جو خصوصی حیثیت دی گئی تھی اسے بحال کرے اور تمام کالے قوانین ختم کرے: تنظیم کا بھارت سے مطالبہ انٹرنیشنل کرائسس گروپ کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول سے مقامی لوگوں کو مزید آمدورفت کی اجازت دینے پر رضامند ہو بھی جائیں تب بھی اس تنازعے کے حل کے لیے دو طرفہ مذاکرات ناکام رہیں گے۔

بین الاقوامی تنازعات کے حل کے سلسلے میں کام کرنے والے اس غیرسرکاری ادارے نے کہا ہے کہ جب تک دونوں پڑوسی ملک مذاکرات میں کشمیریوں کو اولیت نہیں دیتے، کوئی بھی بات چیت کامیاب نہیں ہوسکتی۔

بی بی سی کے نامہ نگار احمدرضا کے مطابق کشمیر پر اپنے تازہ تجزیے میں عالمی ادارے نے کشمیریوں کے اہم سیاسی، سماجی اور معاشی ضرورتوں کی نشاندہی کی ہے، جن پر اس کے بقول منقسم ریاست کے دونوں حصوں میں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

آئی سی جی کی جنوبی ایشیاء کی نگراں ثمینہ احمد کہتی ہیں کہ ’نومبر دو ہزار آٹھ میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کے ممبئی پر دہشت گرد حملوں کے بعد دونوں پڑوسی ملکوں میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے کشمیریوں کی سیاسی آزادیوں اور معاشی مواقع کی امیدوں کو گرہن لگا دیا ہے۔‘

ان کے بقول ان حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دشمنی کی فضاء نے کشمیریوں کو تقسیم کرنے والی سرحدوں کو نرم کرنے کے لیے ہونے والی پیش رفت کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ممبئی حملوں کے بعد سے معطل پڑے جامع امن مذاکرات کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کئی اقدامات ہوئے تھے جن میں خاص طور پر کشمیر کے دونوں حصوں میں مواصلاتی ذرائع بحال ہوئے تھے اور ایل او سی کے راستے سفر اور تجارت کو فروغ ملا تھا۔

’لیکن جب تک اعتماد سازی کے ان اقدامات کی ملکیت اور ان پر عملدرآمد کا انتظام کشمیریوں کے پاس نہیں ہوگا، اس وقت تک امن بات چیت کے فوائد پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی خرابی کے خطرے سے دوچار رہیں گے۔‘

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے بارے میں آئی سی جی کا کہنا ہے کہ وہاں عسکریت پسندی میں حالیہ اضافے اور علیحدگی پسندوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں کے باوجود اس وقت تشدد کا وہ عالم نہیں ہے جو سنہ انیس سو نوے کی دہائی میں تھا۔

’بھارت نے خطے میں اپنی فوجوں میں کمی کا وعدہ کیا ہے اور کل جماعتی حریت کانفرنس کے اعتدال پسند دھڑے سے رابطے بڑھانے کی کوشش بھی ہے۔ تاہم کشمیریوں کی تنہائی اب بھی بہت گہری اور تشدد آج بھی معمول ہے جبکہ وادی میں بھارتی فوجیں اب بھی بھاری تعداد میں موجود ہیں اور ان کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی حوصلہ افزائی کرنے والے قوانین بھی برقرار ہیں جس سے لوگوں میں یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ کہیں عسکریت پسند پھر سے اس صورتحال کا فائدہ نہ اٹھائیں۔‘

عالمی ادارے نے بھارت سے کہا ہے کہ وہ اپنے زیر انتظام جموں و کشمیر کو بھارتی آئین میں جو خصوصی حیثیت دی گئی تھی اسے بحال کرے اور تمام کالے قوانین ختم کرے۔

ادارے نے عسکریت پسندی کی روک تھام کے لیے فوج کے بجائے پولیس کی خدمات حاصل کرنے اور خطے کی تباہ شدہ معیشت کی بحالی پر زور دیتے کہا ہے کہ بھارت اسی طرح کشمیری عوام کے اعتماد میں اضافہ کرسکتا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے بارے میں عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ پاکستان کو وہاں کے لیے ایسی اصلاحات کو ترجیح دینی چاہیے جس سے کشمیر کے تمام مکاتب فکر میں سیاسی مباحثے کو فروغ ملے اور مقامی معیشت کا مرکز پر حد سے زیادہ انحصار ختم ہو۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ پاکستان کی منتخب سویلین قیادت کو بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات اور جامع امن مذاکرات کی بحالی کی خواہش کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہیے کہ جہادی عناصر جنہیں آج بھی پاکستانی فوج کی مدد حاصل ہے، علاقے کے امن کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔‘

ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ممبئی جیسا ایک اور حملہ دونوں ملکوں کے تعلقات پر تباہ کن اثرات مرتب کرے گا اور دونوں ملکوں کو جنگ کے دہانے پر بھی لاسکتا ہے۔

اسی بارے میں