پاکستانی مزدور بچوں کا سروے

مزدوروں کی عالمی تنظیم آئی ایل او کی جانب سے پاکستان میں اس سال ایسے بچوں کا سروے کیا جائے گا جو مزدوری کرتے ہیں تاکہ اسی تناظر میں ملک کے لیے پالیسی تشکیل دی جا سکے۔

یہ بات آئی ایل او کے افسر سیف اللہ نے بچوں کے حقوق پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم سپارک کی جانب سے پاکستانی بچوں کے بارے میں جاری کردہ سالانہ رپورٹ 2009 کے موقع پر اسلام آباد میں ایک تقریب میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم میں تعلیم کو لازمی قرار دیا جانا حکومت کی جانب سے ایک انتہائی اہم قدم ہے کیونکہ اس کی وجہ سے ملک میں بچوں کی جبری مشقت کو ختم کرنے میں بہت مدد ملے گی۔

سپارک کی ریسرچ افسر آمنہ خان نے اس رپورٹ کا ایک جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ تمام افسوسناک پہلوؤں کے باوجود گزشتہ سال بچوں کے حقوق کے حوالے سے کچھ مثبت باتیں سامنے آئیں ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق قیدی بچوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے اور اس وقت ملک کی جیلوں میں ان کی تعداد چار ہزار سے کم ہو کر دو ہزار ہو چکی ہے اس کے ساتھ ہی پرائمری سطح پر بچوں کی رجسٹریشن میں نوے فیصد اضافہ ہوا ہے ۔

تاہم سپارک کی نیشنل مینیجر ریسرچ زرینہ جیلانی نے ایک اہم نکتے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال ملک میں ہونے والی اندرونی نقل مکانی، پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد اب تک ہونے والی سب سے بڑی نقل مکانی ہے ، جس کے باعث تقریباً چھ لاکھ بچے ایک سال تک سکول جانے سے محروم رہے۔

تقریب میں شریک ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم سیو دا چلڈرن سویڈن کے ڈائریکٹر نےسپارک کو رپورٹ شائع کرنے پر مبارکباد دی تاہم ان کا کہنا تھا کہ اونٹ ریس میں شریک پاکستانی بچے ہوں یا بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں مزدوری کرنے والے، ان کے حقوق پر آج تک کسی نے کوئی آواز نہیں اٹھائی۔

واضح رہے کہ سپارک تنظیم یہ سالانہ رپورٹ گزشتہ پندرہ سال سے شائع کر رہی ہے ، جس میں بچوں کے حقوق، تعلیم ، صحت، بچوں پر تشدد ، قیدی اور جبری مشقت کرنے والے بچوں کے بارے میں اعداد وشمار، پالیسیاں، بجٹ اور ان سے متعلق سفارشات پیش کی جاتی ہیں۔