’شدت پسند تنظیموں پر صرف کاغذی پابندی‘

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کے اس بیان کے بعد کہ جنوبی پنجاب سے کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد قبائلی علاقوں سے تربیت لے کر پنجاب واپس آ تے ہیں اور یہاں دہشت گردی کی کاروائیاں کرتے ہیں ایک مرتبہ پھر حکومت پنجاب کے اس مؤقف کی نفی ہوتی ہے کہ پنجاب میں شدت پسندوں کی جڑیں نہیں ہیں۔

جمعے کے روز احمدیوں کی عبادت گاہ پر حملہ کرنے والوں کا تعلق مبینہ طور پر جنوبی پنجاب سے بتایا جا رہا ہے اور وفاقی وزیر رحمان ملک کا یہ کہنا کہ اس واقعے کی پیشگی اطلاع پنجاب حکومت کو دی گئی تھی سکیورٹی فراہم کرنے کی حکومتی صلاحیت پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔

معروف تجزیہ نگار مہدی حسن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جتنی تنظیمیں کالعدم قرار دی گئیں ہیں ان پر صرف کاغذ پر ہی پابندی لگائی گئی ہے۔ وہ صرف اس حد تک ’بین‘ ہوئی ہیں کہ اخبارات اور ٹیلی ویژن پر ان کے نام کے ساتھ کالعدم لگا دیا جاتا ہے لیکن عملی طور پر وہ مکمل طور پر سرگرم ہیں۔

مہدی حسن کے مطابق ان تنظیموں کے ممبران بھی پہلے کی طرح سرگرم ہیں، نہ ان کے خلاف کوئی کارروائی ہوتی ہے اور نہ ہی انہیں پکڑا جاتا ہے اور اگر پکڑ بھی لیا جاتا ہے تو عدالت ان کو یہ کہہ کر ضمانت پر رہا کر دیتی ہے کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملے۔

تو کیا پھر حکومت اور خاص طور پر صوبائی حکومت ان کالعدم تنظیموں پر ہاتھ ڈالنے سے گریزاں ہے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا تھا کہ ’پنجاب حکومت کے وزراء کالعدم تنظیم کے رہنماؤں کے ساتھ مل کر اپنی انتخابی مہم چلاتے رہے ہیں اور کیا یہ لوگ جن کے ان کے ساتھ مراسم ہیں یہ ان کے خلاف کوئی ایکشن کرنے دیں گے‘۔

ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے اور ہونا تو یہ چاہیے کہ پنجاب حکومت خود ان شدت پسند تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کرے جو اب صرف جنوبی پنجاب ہی میں نہیں بلکہ پورے پنجاب میں پھیل چکی ہیں۔

تجزیہ نگار امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ احمدیوں کی عبادت گاہ پر حملے میں ملوث افراد کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہونا پنجاب حکومت کے اس دعوے کی مکمل نفی کرتا ہے کہ پنجاب میں شدت پسند تنظیموں کے منظم ٹھکانے نہیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ نہ صرف جنوبی پنجاب میں ہی نہیں بلکہ وسطی پنجاب میں اور خاص طور پر اس کے دیہی علاقوں میں ان شدت پسند اور مذہبی جنونیت رکھنے والی تنظیموں کی جڑیں کافی گہری ہیں۔

تجزیہ نگار رسول بخش رئیس کے مطابق اگرچہ پنجاب حکومت کا شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے کردار مؤثر رہا ہے لیکن اگر لاہور میں اس طرح کے واقعات ہو رہے ہیں جیسے کہ جمعے کو احمدیوں کی عبادت گاہ پر حملے کی شکل میں سامنے آئے تو یہ پنجاب حکومت کی ایک کمزوری ہے اور انہیں اپنی اس کمزوری کا احساس کرنا چاہیے اور اپنی ذمہ داری کو سمجھنا چاہیے۔

اسی بارے میں