سٹیٹ بینک کے نئے گورنر

یاسین انور
Image caption سٹیٹ بینک کے قائم گورنر یاسین انور ایک سینیئر بینکر ہیں

پاکستان سٹیٹ بینک کے گورنر سلیم رضا اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں، جسے صدر آصف علی زرداری نے قبول کر لیا ہے، انہوں نے بھی اپنی استعفے کی وجہ ذاتی وجوہات بیان کیں ہیں مگر مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ کچھ افسران سے اختلافات کی وجہ سے انہوں نے استعفیٰ دیا ہے۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سلیم رضا موجودہ حکومت کے معاشی ماہرین کی ٹیم کے وہ دوسرے اہم رکن ہیں جنہوں نے استعفیٰ دیا ہے، اس سے قبل وزیر خزانہ شوکت ترین بھی سینیئر بینکار تھے جو مستعفی ہو چکے ہیں۔

سلیم رضا کی جگہ یاسین انور کو قائم مقام گورنر مقرر کیا گیا ہے، جو سال 2007 سے بطور ڈپٹی گورنر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ پاکستان سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کے بورڈ، ایس ای سی پی کے پالیسی بورڈ اور سارک پیمنٹس کونسل بورڈ میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔

سٹیٹ بینک کے اعلامیے مطابق یاسین انور مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے رکن ہیں اور انہوں نے پاکستان کے لیے سٹینڈ بائے ارینجمنٹ کے تحت آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر کام کیا۔

بینک کا کہنا ہے کہ ایک سینیئر بینکار کی حیثیت سے یاسین انور کو بین الاقوامی بینکاری میں 33 سال سے زائد عرصے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ وہ مالیاتی خدمات کے شعبے اور ملک میں ہونے والی اقتصادی اصلاحات سے بخوبی واقفیت رکھتے ہیں۔

یاسین انور نے اپنی ابتدائی تعلیم ایچی سن کالج لاہور اور کراچی گرامر سکول سے حاصل کی، وہ وہارٹن اسکول آف بزنس، یونیورسٹی آف پینسلونیا سے اکنامکس میں بیچلر آف سائنس کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد 1973 سے 1975 تک بین الاقوامی مالیاتی ادارے جے پی مورگن چیز نیویارک سے وابستہ رہے۔

سٹیٹ بینک کے مطابق یاسین انور پاکستان بینکرز ایسوسی ایشن، برطانیہ کے بانی ہونے کے علاوہ 1997 سے 1999 تک اس کے صدر رہے چکے ہیں، وہ نیویارک میں عرب بینکرز ایسوسی ایشن، برطانیہ کے رکن بھی رہے ہیں اس کے علاوہ انہوں نے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر، امریکن ٹرکش سوسائٹی ، ڈائریکٹر یو ایس۔پاکستان اکنامک کونسل، ڈائریکٹرامریکن مڈل ایسٹ بزنس ایسوسی ایشن اور ممبر کونسل آن فارن ریلشنز کی حیثیت سے بھی خدمات سر انجام دیں ہیں۔

اسی بارے میں